The news is by your side.

Advertisement

جامشورو، چوبیس سالہ لڑکی کا بہیمانہ قتل

جامشورو: سندھ کے ضلع جامشورو میں چوبیس سالہ لڑکی وزیراں کی مسخ شدہ لاش ہائی وے سے برآمد ہوئی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق چوبیس سالہ لڑکی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ،جس کے جسم پر نشانات بھی موجودتھے، علاقے کے لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ لڑکی کو سنگسار کر کے قتل کیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق وزیراں کے والد نے پہلے بیٹی کی موت کی وجہ حادثے کو قرار دیا اُس کے بعد پھر مقتولہ کے شوہر اور سسرال والوں پر الزام عائد کر کے مقدمہ درج  کرایا  جس میں شوہر اور دیور کو نامزد کیا گیا ہے۔

پولیس نے مقتولہ وزیراں کے قتل کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنا دی جو ذمہ داروں کا تعین اور سنگسار یا قتل کی وجوہات کا پتہ لگائے گی۔ اس ضمن میں پولیس نے وزیراں کے شوہر اور دیور کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق لڑکی کو مبینہ طور پر پتھر اور ڈنڈے مار کر قتل کیا گیا اور پھر اُس کی لاش کو انڈس ہائی وے کے قریب پھینکا گیا۔

عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ کے میڈیکل سپریٹنڈینٹ ڈاکٹر معین کا کہنا ہے کہ لڑکی کو مبینہ طور پر سنگسار کیا گیا اور اُسے ڈنڈے اور پتھروں کے وار سے قتل کیا گیا۔

مقتولہ کے شوہر نے پولیس کو بیان دیا کہ لڑکی کا والد اپنی بیٹی کی شادی ہمارے خاندان میں نہیں کرنا چاہتا تھا، وزیراں کو میں نے نہیں بلکہ اُس کے گھر والوں نے تشدد کر کے قتل کیا۔

دوسری جانب قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں سندھ حکومت اور وزیر اعلیٰ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ لڑکی کے قاتلوں کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر واقعے سے متعلق لکھا کہ ‘ضلع جامشورو کے گاؤں وڈا چھچھر میں وزیراں چھچھر نامی لڑکی کو وحشیانہ طور پر پتھروں سے سنگسار کر کے بے دردی سے قتل کردیا گیا‘۔

انہوں نے لکھا کہ ‘وزيراعلیٰ سندھ کا آبائی ضلع ہونے کے باوجودابھی تک قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا گیا، ديہی علاقوں کو خواتين کے ليے سندھ کو مقتل بناديا گيا ہے، حکومت اور عدليہ فوری نوٹس لے کر ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائے‘۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں