The news is by your side.

Advertisement

’اسپتال کا عملہ 30 سال تک ٹوائلٹ کا پانی پیتا رہا‘ ماجرا کیا ہے؟

جاپان کے ایک اسپتال میں تیس سال تک ٹوائلٹ کا گندا پانی پینے کے صاف پانی کے طور پر استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

جاپان کے ایک خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسپتال میں تقریباً 30 سال تک ٹوائلٹ کا پانی بطور پینے کے صاف پانی کے طور پر استعمال کیے جانے کا انکشاف اوساکا یونیورسٹی کی جانب سے کیا گیا۔

اوساکا یونیورسٹی کی جانب سے بتایا گیا کہ اسپتال ڈپارٹمنٹ کے پانی کے کچھ نلکے غلطی سے ٹوائلٹ کے ساتھ جوڑ دیے گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق جب 1993 میں اسپتال کی تعمیر ہوئی تو اس کے 120 نلکے غلط لگا دیے گئے اور ان نلکوں سے آنے والا پانی حیران کن طور پر ہاتھ دھونے، پینے اور غرارے کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔

مقامی میڈیا کے مطابق تقریباً 30 سال تک اسپتال میں ٹوائلٹ کا گندہ پانی استعلام ہوتا رہا اور ہرکوئی اس سے نابلد رہا لیکن جب اسپتال کی ایک نئی بلڈنگ کے لیے انسپکشن کی گئی تو اس وقت یہ ماجرا کھل کر سامنے آیا۔

اس سے بھی دلچسپ بات یہ بھی کہ اسپتال کی انتظامیہ 2014 میں باقاعدگی کے ساتھ ہفتے میں ایک بار اسپتال کے پانی کا رنگ، ذائقہ اور اس کی بدبو چیک کرتی تھی لیکن اس کے باوجود کسی کو بھی اس بارے میں پتہ چلا کہ وہ یہ پانی صاف ہے یا پھر ٹوائلٹ کا ہے۔

یومیوری شیمبون کی رپورٹ کے مطابق کیمپس میں تقریباً 105 عمارتیں ہیں جو کنویں کے صاف پانی کا استعمال کرتی ہیں تاہم اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ عمارت میں پائپوں سے متعلق جانچ کریں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں