ہفتہ, جولائی 13, 2024
اشتہار

جاذب قریشی: معروف شاعر، نقاد اور کالم نگار

اشتہار

حیرت انگیز

معروف شاعر جاذب قریشی 21 جون 2021ء کو انتقال کرگئے تھے۔ انھوں نے تحقیقی اور تنقیدی کام بھی کیا اور تدریس و ادبی صحافت سے وابستہ رہے۔ آج جاذب قریشی کی برسی ہے۔

جاذب قریشی کا آبائی شہر لکھنئو تھا۔ لیکن جاذب صاحب نے کلکتہ میں آنکھ کھولی تھی۔ وہ 3 اگست 1940ء کو پیدا ہوئے۔ جاذب قریشی کا اصل نام محمد صابر تھا۔ والد کا انتقال ہوا تو اس کنبے کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بھائی کے ساتھ کم عمری میں جاذب صاحب محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے۔ انھوں نے لوہے کی ڈھلائی کا کام کیا اور سخت مشقت اور بھٹی کی تپش کو برداشت کرتے ہوئے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا۔ تقسیم سے قبل ہی شاعری کا شوق ہوگیا تھا اور لکھنؤ میں منعقد ہونے والے مشاعرہ سننے جانے لگے تھے۔ جاذب قریشی قیامِ پاکستان کے بعد لاہور ہجرت کر گئے اور بعد میں کراچی منتقل ہوگئے۔ یہاں جامعہ کراچی سے تعلیم حاصل کی اور اپنی محنت کی بدولت شعبۂ تدریس اور ادبی صحافت میں جگہ بنائی۔ شادی کی اور اپنے کنبے کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ انھیں فلم سازی کا بھی شوق تھا اور ایک فلم بھی بنائی تھی جو ناکام ہوگئی۔ مشکل وقت دیکھنے والے جاذب قریشی ملک اور بیرونِ ملک مشاعروں میں شرکت کرتے رہے اور کئی ادبی محافل کے منتظم بھی رہے۔ انھو‌ں نے کالم نگاری بھی کی۔تاہم ان کی بنیادی شناخت بطور شاعر ہی قائم رہی۔ ’’شناسائی‘‘، ’’نیند کا ریشم‘‘،’’شیشے کا درخت‘‘،’’عکس شکستہ‘‘، ’’آشوبِ جاں ‘‘،’’عقیدتیں (حمدیں، نعتیں ،منقبت)‘‘، ’’جھرنے (نغمے، گیت)‘‘، ’’اجلی آوازیں (ہائیکو)‘‘ اور ’’لہو کی پوشاک‘‘ اُن کے شعری مجموعے ہیں۔

جاذب قریشی نے اپنی شاعری کو جدید طرزِ احساس سے آراستہ کیا اور وہ خود اپنے ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں ’’تخلیقی اور عملی تجربے اگر رک جائیں تو فرسودگی اور پرانا پن سچے ادب کو اور آسودہ زندگی کو چاٹ جاتا ہے۔‘‘ نئے استعارات، جدید تلازمات اور نامانوس لفظیات کے سبب انھیں مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ سلیم احمد نے اُن کی شاعری کو ’’آئینہ سازی کا عمل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ’’ یہ آئینہ جاذب کے ہنر کا المیہ بھی ہے اور طربیہ بھی۔‘‘ اسی طرح حسین مجروح کہتے ہیں کہ ’’ہیئت سے حسیت اور اظہار سے موضوع تک، جاذب قریشی کی شاعری نئی لفظیات اور تشکیلات کی شاعری ہے۔ جاذب قریشی کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے

- Advertisement -

جب بھی آتا ہے وہ میرے دھیان میں
پھول رکھ جاتا ہے روشن دان میں

سنہری دھوپ کا ٹکڑا ہوں لیکن
ترے سائے میں چلنا چاہتا ہوں

مرے وجود کے خوشبو نگار صحرا میں
وہ مل گئے ہیں تو مل کر بچھڑ بھی سکتے ہیں

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں