The news is by your side.

جان لوگی بیئرڈ کا حیران کُن تجربہ جو ایک نہایت اثر انگیز ایجاد کی بنیاد بنا

انیسویں صدی میں اپنی حیرت انگیز ایجاد کے ایک خوش گوار تجربے کے بعد جان لوگی بیئرڈ دنیا بھر میں‌ مشہور ہوگیا۔ اس کی یہ ایجاد آواز کے ساتھ تصویر کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا سکتی تھی۔

یہ سائنسی تجربہ ٹیلی وژن کی ایجاد کا موجب بنا اور یوں اسکاٹ لینڈ کے سائنس دان جان لوگی بیئرڈ (Jhon Logie Baired) اس کے موجد مشہور ہیں۔ وہ 1888ء میں‌ پیدا ہوئے اور 1946ء تک زندہ رہے۔

اس زمانے میں ریڈیو تو ایجاد ہوچکا تھا، لیکن آواز کے ساتھ تصویر کو بھی ہوا کے دوش پر دور تک پہنچانے کے لیے سائنس دان تجربات کررہے تھے۔ بیئرڈ کو فوٹو گرافی کا شوق تھا اور وہ مختلف تجربات کے علاوہ تصویروں اور بجلی کے تاروں پر بھی تجربات کرچکا تھا۔ ایک روز ریڈیو سنتے ہوئے اس نے ارادہ کیا کہ اسی طرز وہ ہوا کی لہروں کی مدد سے تصویریں بھیج کر رہے گا۔

بیئرڈ نے اگلے ہی دن کچھ بیٹریاں، بجلی کے تار، پرانی موٹر، اور موم کے علاوہ ضرورت کی تمام اشیا اکھٹی کرلیں اور ایک عرصہ تک تجربات کے بعد وہ ایک پردے پر تصویر دیکھنے میں‌ کام یاب ہوا جو کچھ زیادہ صاف نہ تھی۔ وہ بہت خوش تھا۔ پھر اس نے مزید بیٹریوں کے ساتھ کئی دنوں تک تجربات جاری رکھے جس کے بعد پردے پر ظاہر ہونے والی تصویریں‌ بہت زیادہ صاف تھیں۔ تب، اس نے اپنے اس کارنامے کا اعلان کیا اور اگلے ہی دن 1926ء میں برطانیہ کے تمام اخبارات میں اس کا یہ کارنامہ بیئرڈ کی زندگی کے حالات کے ساتھ شایع ہوا۔

تین برس بعد بیئرڈ کی اسی ایجاد کی بدولت بی بی سی لندن نے ٹیلی وژن کا پہلا پروگرام پیش کیا۔ تاہم جلد ہی اس ایجاد میں‌ متعدد ایسی تبدیلیاں کی گئیں جس نے اسے مزید بہتر اور شان دار بنا دیا۔

بیئرڈ کے مکینیکل ٹیلی ویژن کے بعد الیکٹرونک ٹیلیویژن ایجاد ہوا، جس میں چرخی، موٹر اور دوسرے پرزوں کی جگہ کیتھوڈ ٹیوب استعمال کی گئی۔ یہ بلیک اینڈ وائٹ نشریات کا دور تھا۔

1953ء میں رنگین ٹی وی متعارف کروایا گیا۔ ٹیلیوژن دو الفاظ کا مجموعہ ہے جس میں‌ یونانی زبان کا لفظ ٹیلی جس سے مراد ’’دور یا بعید‘‘ ہے اور وژن انگریزی زبان کا ہے، جس کا مطلب ’’نظر‘‘ ہے۔ آج اگرچہ یہ بڑا سا ڈبّہ اور موٹی اسکرین کے ساتھ چینل بدلنے یا ٹیونگ کرنے والے لیور، اور آواز بڑھانے اور گھٹانے کے بٹنوں کی جگہ دیوار کی اسمارٹ اسکرین اور جدید ٹیکنالوجی والا ریموٹ لے چکا ہے، لیکن بیئرڈ کا نام ہمیشہ اس کے موجد کے طور پر زندہ رہے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں