پارک سانحہ: گورنرسندھ نے نوٹس لے لیا، انتظامیہ کے دو افراد زیرحراست -
The news is by your side.

Advertisement

پارک سانحہ: گورنرسندھ نے نوٹس لے لیا، انتظامیہ کے دو افراد زیرحراست

کراچی: پرانی سبزی منڈی کے ساتھ واقع ایڈونچر پارک میں جھولا گرنے کے سانحے پر گورنر سندھ نے نوٹس لے لیا، پولیس نے انتظامیہ کے دو افراد بھی حراست میں لے لیے۔

تفصیلات کے مطابق گورنر سندھ محمد زبیرنے کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ گورنر سندھ نے زخمیوں کو بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی بھی ہدایت کر دی۔

دریں اثنا ڈپٹی کمشنر ایسٹ کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، چیف سیکریٹری سندھ اعظم سلیمان نے ہدایت کی کہ 24 گھنٹے میں رپورٹ تیار کی جائے۔

چیف سیکریٹری نے صوبے کے تمام پارکس کے جھولوں کو تین دن کے لیے بند کرنے کا بھی حکم جاری کر دیا ہے، 3 دن میں ٹیکنیکل انسپیکشن کے بعد جھولوں کو کھولا جائے گا۔

کمشنر کراچی صالح فاروقی نے بھی پارک کا دورہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ گرنے والے جھولے کا جائزہ لیا جا رہا ہے، انکوائری کے بعد معلوم ہوگا کہ قصورکس کا ہے، لوگوں کی حفاظت سب سے پہلا کام ہے، انکوائری مکمل ہونے تک پارک بند رہے گا۔

دیو ہیکل جھولا، چند سوالات


معلوم ہوا ہے کہ پارک میں گرنے والے جھولے کی اونچائی 20 سے 30 فٹ ہے، جھولا چلتے ہوئے گرا، عینی شاہدین کے مطابق جھولے میں بچے اور بڑے سوار تھے۔  کہا جارہا ہے کہ پارک میں نصب دیوہیکل جھولا بچوں کے لیے نہیں صرف بڑوں کے لیے تھا اس کے باوجود بڑوں کے ساتھ بچوں کو بھی سوار کرایا گیا تھا۔

پرانی سبزی منڈی کے پارک میں جھولا گر گیا، ایک بچی جاں بحق، متعدد زخمی

سوال یہ ہے کہ کم سن بچوں کو جھولے میں بٹھانے کی اجازت کیوں دی گئی؟ عید پر عوام کے لیے کھولا گیا جھولا اتنی جلدی کیوں گرا؟ جھولوں کا انتظام کس کے پاس ہے؟

غیر محفوظ جھولوں کو چلانے کی اجازت کس نے دی؟ شہریوں کی زندگی سے کھیلنے کا ذمہ دار کون ہے؟ پارک انتظامیہ یا کمشنر یا میئر کراچی؟

واضح رہے کہ حادثے میں ایک بچی جاں بحق ہوئی جب کہ دو زخمی خواتین کی حالت تشویش ناک ہے۔ جھولا گرنے کے واقعے کے بعد عوام نے شدید احتجاج بھی کیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں