The news is by your side.

جنید جمشید 6 سال بعد بھی دلوں میں زندہ

دل دل پاکستان سے میرا دل بدل دے تک شہرت کی بلندیوں کا سفر کرنے والے جنید جمشید کو دنیا سے گئے 6 برس بیت گئے وہ آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔

جنید جمشید جنہوں نے دل دل پاکستان جیسا ملی نغمہ گا کر راتوں رات شہرت حاصل کی تھی اور پھر کئی سال تک اس شعبے سے وابستہ رہ کر نام کماتے رہے لیکن پھر کایا پلٹ ہوئی اور انہوں نے شوبز کی دنیا ترک کرکے مذہب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا اور لوگوں کے دلوں میں اپنی قدر وقیمت میں اضافہ کیا۔

پاکستان کے نامور گلوکار سے مذہبی اسکالر بننے والے جنید جمشید 6 سال قبل ہوا بازی کے عالمی دن کے موقع پر ہی 7 دسمبر کو چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہوئے ان کے ساتھ اہلیہ سمیت 45 دیگر مسافر بھی لقمہ اجل بن گئے۔

دل دل پاکستان سے لے کر میرا دل بدل دے تک جو گایا اور جوپڑھا وہ سننے والوں کے دل میں اترگیا۔ جنید جمشید اب ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن اپنی دل سوز آواز کی وجہ سے وہ آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔۔

وہ زندگی میں ایک بڑی اور مثبت تبدیلی سے نوجوانوں کیلیے رول ماڈل بنے۔ انہوں نے اے آر وائی کی رمضان ٹرانسمیشن کی شان بڑھائی۔

جنید جمشید کا 7 دسمبر 2016 کو چترال سے اسلام آباد تک کا فضائی سفر زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا۔ وہ قومی ایئر لائن پی کے 661 کی پرواز سے چترال سے واپس آرہے تھے کہ حویلیاں کے قریب طیارہ حادثے کا شکار ہوا۔ اس حادثے میں جنید جمشید، ان کی اہلیہ نیہا جمشید سمیت 47 مسافروں کی زندگی کا سفر تمام ہوا۔

جنید جمشید نے اپنی زندگی کا بھرپور عروج دیکھا۔ وہ 3 ستمبر 1964 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ والد کا تعلق پاکستان ائیر فورس سے تھا اسی لیے ان کی خواہش تھی کہ بیٹا بھی اسی شعبے سے وابستہ ہو لیکن قدرت نے ان کے لیے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا۔

جنید جمشید یونیورسٹی دور میں میوزک سے لگاؤ ہونے کے بعد دوستوں کے ساتھ مل کر ایک بینڈ تشکیل دیا۔ جس نے 1983 میں پشاور اور پھر اسلام آباد یونیورسٹی میں اپنی فن کا مظاہرہ کیا۔ بعد ازاں اس چھوٹے سے بینڈ وائٹل سائنس نے دنیا بھر میں نام روشن کیا اور دل دل پاکستان جیسے مشہور قومی نغموں کو تخلیق کیا۔

اپنے گلوکاری کے کیریئر کی بلندی پر پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں دین کی راہ دکھادی جس کے بعد انہوں نے موسیقی کو خیرباد کہا اور اللہ والوں سے ناطہ جوڑ لیا۔ جب انہوں نے دین کی سربلندی کا علم اٹھایا تو کسی مشکل کی پروا نہ کی۔

تبلیغی جماعت سے وابستگی کے بعد جنید جمشید دین کی تبلیغ کے لیے دیس دیس گئے۔ اسی دوران انہوں نے حمد و ثنا اور نعت خوانی کا آغاز بھی کیا۔ جنید جمشید نے وسیم بادامی کے اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہونے والی رمضان نشریات کی شان بڑھائی۔ بیت بازی کا مقابلہ ہو، سوال جواب کی نشست یا پھر افطار اور سحر کے اوقات کی دعائیں جنید جمشید پیش پیش نظر آتے تھے۔

جنید جمشید کا آخری سفر بھی دین کی تبلیغ کے لیے تھا اور انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام چترال میں دین اسلام کی تبلیغ اور لوگوں کو حقیقی روشنی کی طرف آنے کی دعوت دیتے ہوئے گزارے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں