The news is by your side.

Advertisement

موسمِ بہار کی کچنار، مفید سبزی

کچنار موسمِ بہار کی عمدہ سبزی ہے۔ کچنار کے پھول، اس کی چھال اور پھلیاں طبّی و غذائی خصوصیات کی حامل ہیں۔

کچنار کا درخت اور اس کی پھلی پاک و ہند میں‌ کچنال کے نام سے بھی مشہور ہے۔ کچنال کے پھولوں پر پھلیاں لگتی ہیں جو طرح طرح سے ہماری خوراک جزو بنتی ہیں۔ کچنار کا درخت درمیانے قد کا ہوتا ہے اور عموماً 10 سے 12 میٹر تک بلند ہوتا ہے۔ اس کا اصل وطن جنوبی ایشیا اور چین ہے۔ کچنار کا سائنسی نام bauhinia variegata ہے۔

پھول کھلے بغیر کچنار کو بطور سبزی پکایا جاتا ہے۔ اس کا سالن بہت لذیذ ہوتا ہے۔ اس پھلی کے اجزا میں نمکیات اور وٹامن سی شامل ہوتے ہیں۔ کچنار خون صاف کرنے کے لیے مشہور ہے۔ اس کے درخت کی چھال بھی مصفیٰ خون ہے اور خون کی خرابیوں کو دور کرتی ہے۔ ماہر طبیب اسے امراضِ خون میں مختلف طریقوں سے استعمال کرواتے ہیں۔

اس کے مختلف طبی خواص ہیں۔ اس کی سوکھی پھلیوں کے سفوف سے اسہال میں افاقہ ہوتا ہے جب کہ اس کی کلیاں سرد اور قابض ہیں۔ سرخ کچنال کی جڑ کا جوشاندہ پلانے سے ضعفِ ہاضمہ دور ہوجاتا ہے۔ کچنار کے پھولوں کا گل قند بھی بنا کراستعمال کرتے ہیں۔ پیشاب کے امراض دور کرنے میں کچنار کی سبزی کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ کچنار دیر سے ہضم ہوتی ہے لہٰذا معالجین کہتے ہیں کہ اسے بغیر ادرک اور گرم مسالے کے نہیں کھانا چاہیے۔ اگر کچنار میں بکرے کا اچھا گوشت شامل کرکے کھائیں تو بے حد لذیذ ہوتا ہے اور جسم کو خوب تقویت بخشتا ہے۔

اطبا معدہ کو طاقت دینے اور خون صاف کرنے کے لیے کچنار کی چھال کو مخصوص طریقے سے شہد میں ملا کر پینے کو دیتے ہیں۔ اسی طرح انتڑیوں اور پیٹ کے کیڑے مارنے کے لیے کچنار کا جوشاندہ تجویز کرتے ہیں‌ جو بہت مفید ہے۔

طبّی ماہرین کے نزدیک کچنار بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بہترین سبزی ہے۔ جگر کا ورم دور کرنے کے لیے بھی کچنار سے مدد لی جاتی ہے اور اس کی جڑ کی چھال کا جوشاندہ بنا کر پینا فائدہ دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی چھال کے رس میں کافور یا زیرہ ملا کراستعمال کرنے سے جگر کی گرمی رفع ہوتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں