The news is by your side.

کینگرو کا انتقام : آسٹریلوی شہری کو قتل کردیا

آسٹریلوی پولیس نے گزشتہ روز یہ اعلان کیا ہے کہ جنوب مغربی آسٹریلیا میں ایک جنگلی کینگرو نے ایک شخص کو ہلاک کر دیا، مقتول شخص اسے پالتو جانور بنا کر پال رہا تھا۔ 1936 کے بعد آسٹریلیا میں کینگرو کا یہ پہلا مہلک حملہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق  77سالہ بوڑھے شخص کی لاش ملی ہے، یہ اطلاع اس کے ایک رشتہ دار نے د ی کہ گزشتہ روز مغربی آسٹریلیا کے دارالحکومت پرتھ سے 400 کلومیٹر جنوب مشرق میں دیہی علاقے میں واقع اپنے گھر پرمردہ حالت میں ملا ہے۔

پولیس نے جاری بیان میں بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ اس شخص پر صبح کے اوقات میں ایک کینگرو نے حملہ کیا تھا۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کینگرو کو گولی مار دی کیونکہ اس نے طبی عملے کو زخمیوں تک پہنچنے سے روک دیا تھا۔

پولیس کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ کینگرو ہنگامی طبی عملے کے لیے ایک مستقل خطرہ تھا۔ حادثے میں اس شخص کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔

پولیس کا خیال ہے کہ مقامی آسٹریلوی باشندوں کو پالتو جانور کے طور پر رکھنے پر قانونی پابندیاں ہیں جس کے باوجود مرنے والا شخص جنگلی کینگروز کو پالتو جانور کے طور پر پال رہا تھا۔

یاد رہے کہ مغربی سرمئی کنگرو یا سیاہ چہرے والا کینگرو جنوب مغربی آسٹریلیا میں عام پایا جاتا ہے اور اس کا وزن 54 کلوگرام تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کی اونچائی 1.3 میٹر ہے۔

کچھ نر کینگرو جارحانہ ہوتے ہیں اور انسانوں پر ان ہی طریقوں سے حملہ کرتے ہیں جو وہ ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

کینگروز اپنے مخالف کو مارنے کے لیے اپنے چھوٹے اوپری اعضاء کا استعمال کرتے ہیں، اس کے علاوہ اپنی پٹھوں کی دم پر ٹیک لگاتے ہیں اور پھر اپنے طاقتور پیروں کے پنجوں سے مارتے ہیں۔

38سالہ ولیم کروکشینک 1936 میں ہیلسٹن نیو ساؤتھ ویلز کے ایک اسپتال میں کینگرو کے حملے میں زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گیا تھا۔

سڈنی مارننگ ہیرالڈ نے اس وقت رپورٹ کیا کہ کروکشانک کو اپنے کتوں کو کینگرو کے حملے سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے سر پر شدید چوٹیں آئیں،اس میں اس کا جبڑا بھی ٹوٹ گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں