The news is by your side.

بچی کے جسم پر بلیڈ سے بنے زخم کس نے لگائے؟ دل دہلا دینے والا انکشاف

کراچی: شہر قائد میں ایک چار سالہ معصوم بچی پر مبینہ سفاکانہ تشدد کا معاملہ سامنے آیا ہے، بچی کے جسم پر بلیڈ سے بنے زخموں کے نشانات پائے گئے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ایم اے جناح روڈ کے ایک اسپتال میں عائشہ نامی 4 سالہ بچی کو علاج کے لیے لایا گیا ہے، یہ بچی کراچی کے علاقے پاک کالونی کی رہائشی ہے، ڈاکٹروں نے بچی کے جسم کے مختلف حصوں پر تیز دھار بلیڈ چلائے جانے کا انکشاف کیا ہے۔

جب بچی کو علاج کے لیے اسپتال لایا گیا تو اسپتال میں موجود ایک خاتون مریضہ نے معاملہ دیکھ کر پولیس کو مدد کے لیے بلا لیا، بچی جس بیڈ پر تھی، اس کے برابر بیڈ پر موجود مریضہ نے ڈاکٹرز کو ایک تیز دھار بلیڈ بھی اٹھا کر دیا۔

انکشاف ہوا ہے کہ مبینہ طور پر بچی کی والدہ خود بچی کو زخمی کرتی ہے، معصوم بچی کے نازک اعضا سمیت مختلف جگہوں پر نشانات موجود ہیں، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹ بھی اسپتال پہنچ گئی، جہاں انتظامیہ نے پولیس کو تفصیلات فراہم کر دیں۔

اسپتال انتظامیہ نے انکشاف کیا کہ بچی کو 2 ماہ میں دوسری مرتبہ اسپتال میں ایڈمٹ کیا گیا ہے، پہلی بار بچی کو گزشتہ ماہ ایڈمٹ کیا گیا تھا، اس وقت بچی کے ہاتھ پر ایک زخم تھا جو خراب ہو گیا تھا، جس روز بچی کو ڈسچارج کیا گیا، اگلے روز پھر ایڈمٹ کر دیا گیا۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بچی کے جسم سے خون بہتا ہے، اور کئی جگہ پر کٹ لگے ہوئے ہیں، ایسا لگتا ہے جان بوجھ کر تیز دھار بلیڈ سے کٹ لگائے جاتے ہیں، بچی کی دوسری بہن کے جسم پر بھی زخم کا نشان ہے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ہم نے موقع پر پہنچ کر صورت حال کا مکمل جائزہ لیا ہے، بچی کے 3 ٹیسٹ لیے گئے ہیں، اور نمونے بھی حاصل کر لیے ہیں، عائشہ کا میڈیکل ٹیسٹ بھی کروا لیا ہے، آج میڈیکل لیٹر اور تینوں ٹیسٹ کراچی یونیورسٹی لیب میں جعع کروائیں گے۔

پولیس حکام کے مطابق اسپتال میں بیڈ سے ملنے والے بلیڈ کا بھی فارنزک کروایا جائے گا، 15 سے 20 روز میں رپورٹ سامنے آ جائے گی کہ اصل معاملہ کیا ہے، بچی کے گھر کی چھان بین اور علاقہ مکینوں سے بھی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں