The news is by your side.

Advertisement

کراچی ایکسپریس حادثہ: ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور سمیت 3 افسران معطل

سکھر: محکمہ ریلوے نے تین روز قبل روہڑی کے قریب حادثے کا شکار ہونے والی پاکستان ایکسپریس کے ممکنہ ذمے داران کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ابتدائی طور پر ڈویژنل آفس کے تین افسران اور ڈرائیور کو معطل کردیاگیا ہے، جس کا نوٹی فیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے، ان افسران اور ڈرائیورز کو غفلت اور لاپرواہی برتنے پر معطل کیا گیا۔

جاری نوٹی فیکیشن کے مطابق ابتدائی انکوائری کے بعد تین افسران اور ٹرین ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور کو معطل کیا گیا ہے، معطل افراد میں ڈی ای این مدثر شاہ آفریدی، اےای این پیرن دتا، کراچی ایکسپریس کے ڈرائیور عبدالستار اور اسسٹنٹ ڈرائیور امیر حسین شامل ہیں۔آٹھ مارچ کو کراچی ایکسپریس ٹرین حادثے کی ابتدائی رپورٹ تیار کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ حادثے کے بعد 490 کلومیٹر پر ٹریک کی فش پلیٹ تازہ ٹوٹی پائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 490 کلو میٹر پر ڈیڑھ فٹ ٹریک کا ٹکڑا ٹوٹا ہوا پایا گیا، کوچ نمبر 12306 اور 12412 کے درمیان کپلنگ ٹوٹا ہوا تھا، ٹریک کمزور ہونے کے باعث انجینئرنگ رکاوٹ اور اسپیڈ 65 کلو میٹر مقرر تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈرائیور نے کاشن انڈیکیٹر کا مشاہدہ کیا اور اسپیڈ 65 کلو میٹر پر کنٹرول کے لیے بریک لگایا، حادثے کے بعد ٹرین 2402 فٹ گھسیٹی گئی جو ظاہر کرتی ہے کہ اوور اسپیڈ تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  روہڑی ٹرین حادثہ، ابتدائی رپورٹ سامنے آ گئی

یاد رہے کہ صوبہ سندھ کی تحصیل پنوں عاقل کے قریب مندو ڈیرو ریلوے اسٹیشن پر سات مارچ کو کراچی ایکسپریس کی 10 بوگیاں ٹریک سے اترنے کے بعد الٹ گئی تھیں جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق جب کہ 40 افراد زخمی ہوئے۔

حادثے کے بعد سی ای اور ریلویز اور ایف جی آئی آر نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور شواہد اکٹھے کیے، حکام کے بیانات میں واضح تضاد نظر آیا کہ یہ حادثہ تھا یا تخریب کاری، جائے حادثہ پر لوہے کے ٹریک کے ایک برابر کٹے ٹکڑے پائے گئے، جہاں ٹریک ثابت تھا وہاں سے پلرز کیوں غائب تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں