کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی آڑ میں دہشت گردوں کے سرگرم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں مزاحمت پر قاتلانہ حملوں کی 27 وارداتیں دہشت گردی کی نکلیں، پولیس نے فرقہ وارانہ عسکریت پسند تنظیم کے دو کارندوں وقار عباس اور حسین اکبر کو گرفتار کیا ہے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی آصف شیخ کا کہنا ہے کہ ملزمان نے 13 قتل کا اعتراف کیا ہے، ملزم چھوٹے کیس میں گرفتار ہوکر خود ہی جیل چلے جاتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان کو جیل سے نکالنے کے بعد ٹارگت کلنگ کے کیسز میں گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق منظم گروہ کا ماسٹر مائنڈ سید حسین موسوی بیرون ملک مقیم ہے جبکہ اس گروہ کے 24 سہولت کار موجود ہیں۔
پولیس کا بتانا ہے کہ نومبر سے ٹارگٹ کلنگ کی واراداتیں شروع ہوئی تھیں جس میں ایک ہی جماعت کے کارکن جاں بحق ہورہے تھے، ہم نے تفتیش کی اور انہیں ٹارگٹ کلنگ میں گرفتار کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کا ایک اور چار افراد پر مشتمل ٹارگٹ کلرز کا گروہ ہے جس کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی اور کرائم رپورٹر ہیں، وہ 14 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔


