The news is by your side.

Advertisement

وین ڈرائیور معصوم طلبہ کی زندگیوں سے کھیلنے لگے

کراچی: شہر قائد میں وین ڈرائیور معصوم طلبہ کی زندگیوں سے کھیلنے لگے، صبح سویرے اسکول وقت پر کراچی کی سڑکوں پر چھوٹی عمر کے طلبہ سے کھچاکھچ بھری ہوئی وینیں دوڑتی نظر آنا عام ہو گیا ہے۔

اس سلسلے میں ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وین ڈرائیور نے سوزوکی وین میں 30 سے زائد بچے بٹھا رکھے ہیں، اور اندر جگہ نہ ہونے کے سبب بچے خطرناک انداز میں باہر ڈالے پر لٹکے ہوئے ہیں۔

ٹریفک پولیس کے سیکشن افسر نے عبداللہ ہارون روڈ پر ایک سوزوکی وین کو روکا، جس میں 30 سے زائد بچے سوار تھے، افسر نے اسکول وین کا چالان کر کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا۔

وین کے اندر چالیس کے قریب بچے ٹھونس کر بٹھائے گئے تھے، رپورٹ کے مطابق وین میں کلاس وَن سے سیکنڈری تک کے بچے بچیاں موجود تھیں، اسکول وین کے ڈالے پر بھی 3 بچے بیٹھے ہوئے تھے، جب کہ ڈالے کے ساتھ لوہے کے فٹ ریسٹ پر 5 بچے کھڑے تھے۔

سیکشن افسر نواز سیال نے کہا کہ یہ ایک خطرناک صورت حال ہے جو حادثے کا سبب بنتی ہے، جب انھوں نے ڈرائیور سے پوچھا کہ آپ نے 40 بچے وین میں بٹھائے ہیں، کیا وین میں جگہ ہے؟ تو ڈرائیور نے کہا سر مجھے معاف کر دیں آئندہ نہیں کروں گا۔ اس موقع پر وین ڈرائیور گلو خلاصی کے لیے ہاتھ بھی جوڑنے لگا۔

لیکن بے شرمی کی انتہا یہ سامنے آئی کہ وین ڈرائیور نے ایس او کے سامنے ہی لوہے کے فٹ ریسٹ پر بیٹھے ہوئے ایک طالب علم کو دھکا دے کر اندر کی طرف دھکیلنے کی ناکام کوشش کی، جسے ویڈیو میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

عبداللہ ہارون ٹریفک سیکشن افسر نے وین ڈرائیور کا 15 سو 40 روپے چالان کر دیا، اور بچوں کے والدین سے اپیل کی کہ اپنے بچوں کو اس وین میں بھیجیں جس میں بیٹھنے کی جگہ ہو۔

Comments

یہ بھی پڑھیں