The news is by your side.

Advertisement

مودی حکومت کا مقبوضہ کشمیر کے اخبارات کے خلاف کریک ڈاؤن

سری نگر: نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کے بعد اب مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر سے چھپنے والے اخبارات کے خلاف بھی کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مودی سرکار کی پالیسیوں کے مطابق چلنے سے انکار کرنے والے کشمیری اخبارات کے اشہتارات بند کر دیے گئے ہیں، تاہم اخبارات نے مودی سرکار کے دباؤ میں آنے سے انکار کر دیا ہے۔

دوسری طرف مقبوضہ کشمیر سے شایع ہونے والے اخبارات نے بھارتی جارحیت کے خلاف انوکھا احتجاج کرتے ہوئے صفحہ اوّل خالی چھوڑ دیا۔ متعدد مرکزی اخبارات کی جانب سے اس احتجاج نے عالمی میڈیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا ہے۔

اخبارات کی جانب سے صفحہ اول خالی شایع کیے جانے سے مودی سرکار کا انتہا پسند چہرہ عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے، جس سے مودی سرکار ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 14 فروری کو پلوامہ حملے کے دو دن بعد ہی مودی سرکار نے آپے سے باہر ہو کر اخبارات کے خلاف ایکشن لینا شروع کر دیا تھا۔

مودی سرکار کی جارحیت کے خلاف احتجاج کرنے والے اخبارات میں مقبوضہ کشمیر کی ترجمانی کرنے والے معروف اخبارات گریٹر کشمیر، کشمیر ریڈرز، کشمیر آبزرور اور کشمیر مانیٹر شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیر:‌ بھارتی ایجنسی نے میر واعظ عمر فاروق کو تفتیش کے لیے نئی دہلی طلب کرلیا

مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ کی جانب سے مودی حکومت کی ایما پر اخبارات کے اشتہارات بند کیے جانے سے یہ اخبارات شدید مالی بحران کا شکار ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے انھیں اپنے صفحات بھی کم کرنے پڑے۔

کٹھ پتلی انتظامیہ چاہتی ہے کہ اخبارات بھارتی فوج کے مظالم کا پردہ فاش نہ کریں، رپورٹرز کی ایک بین الاقوامی تنظیم کا کہنا تھا کہ حکام کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ کشمیری اخبارات پر اپنی رائے مسلط کرنے کے لیے انھیں ہراساں کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں