The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر کے نوجوان خوبصورت جھیلوں کو بچانے کے لیے کوشاں

سرینگر: مقبوضہ کشمیر کا علاقہ بے شمار خوبصورت جھیلوں کا مجموعہ ہے، تاہم بڑھتی ہوئی آبادی، کوڑا کرکٹ اور دیگر مختلف مسائل ان جھیلوں کا حسن تباہ کر رہے ہیں۔

جھیلوں کے ان حسن کو بحال کرنے کے لیے دو کشمیری نوجوانوں نے قدم آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان میں سے ایک جنت ہے جس کی عمر صرف 5 سال ہے۔ جنت کا گھر ڈل جھیل پر بنا ہوا ہے۔ اسے ڈل جھیل بے حد پسند ہے لیکن ساتھ ہی ڈل میں بڑھتی ہوئی آلودگی اسے دلبرداشتہ کر دیتی ہے، چنانچہ اس نے خود پہلا قدم اٹھانے کا سوچا۔

جنت ہر روز اسکول سے آنے کے بعد کشتی میں جھیل پر چلی جاتی ہے اور جس قدر کچرا وہ سمیٹ سکتی ہے، اتنا کچرا جھیل سے نکال لاتی ہے۔

ڈل جھیل اپنی خوبصورتی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، تاہم اس خوبصورت جھیل کو دو بڑے خطرات لاحق ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ زمینوں پر کاشت کاری کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں جھیل کے قریب زمین کو بھی زیر استعمال لایا جارہا ہے جس سے جھیل مختصر ہوتی جا رہی ہے۔

دوسرا خطرہ اسے سیوریج سے لاحق ہے۔ ڈل جھیل میں روزانہ 11 ملین سیوریج مختلف نالوں کے ذریعے پھینکا جارہا ہے جو اس جھیل کو بے حد آلودہ کر رہا ہے۔

ڈل جھیل سے 50 میل دور 18 سالہ نوجوان بلال احمد اپنے گھر کے قریب واقع خوبصورت وولر جھیل کو بچانے کے لیے کوشاں ہے۔

وولر جھیل آس پاس کے علاقوں کو پینے کا پانی فراہم کرتی ہے لیکن دوسری طرف مقامی آبادیوں کا سیوریج بھی اسی جھیل میں ڈالا جاتا ہے۔

وولر جھیل میں بڑی تعداد میں بید مجنوں کے درخت بھی اگائے جارہے ہیں جن کی لکڑی مختلف لکڑی کی مصنوعات بنانے اور ایندھن فراہم کرنے کے کام آتی ہے۔

بید مجنوں کا درخت اگانے کے لیے نم مٹی ضروری ہے چنانچہ اسے جھیل کے اندر اگایا جارہا ہے۔ یہ درخت مختلف جانوروں خصوصاً کتے اور بلیوں کے لیے نہایت زہریلا ہوتا ہے چنانچہ وولر جھیل میں اب ہر طرف جانوروں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔

جنت اور بلال کا کہنا ہے کہ یہ جھیلیں نہ صرف ان کے علاقے کی خوبصورتی کا باعث ہیں بلکہ انہیں پینے کا پانی بھی فراہم کرتے ہیں، چنانچہ لوگوں کو اس میں کوڑا کرکٹ پھینکنے کے بجائے ان کی حفاظت کرنی چاہیئے اور ان کا خیال رکھنا چاہیئے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں