The news is by your side.

Advertisement

قازقستان: مظاہرین کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم جاری

الماتے: قازقستان میں مظاہرین کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم جاری ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق قازق صدر قاسم جمروت نے سیکیورٹی فورسز کو مظاہروں کو روکنے کے لیے گولی مارنے کا حکم دے دیا ہے۔

قازقستان میں عوامی احتجاج بدستور جاری ہے اور معاملہ نہایت سنگین ہوگیا ہے، صدر قاسم جمروت نے سیکیورٹی فورسز سے کہا ہے کہ مظاہرین کو جہاں بھی دیکھیں، بغیر وارننگ گولی مار دی جائے۔

روسی زیر قیادت اتحادی فوج کا پہلا دستہ قازقستان پہنچ گیا

واضح رہے کہ 4 دن میں پُرتشدد احتجاج کے دوران درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں، دو دن قبل الماتے میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران 12 پولیس اہل کاروں کو قتل کیا گیا تھا، جب کہ ایک اہل کار کا سر بھی کاٹا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں مختلف قسم کی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگوں کو سڑک پر اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے، جب کہ ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ سڑک پر مشتعل لوگ فوجیوں کو گاڑی سے اتار کر پکڑ رہے ہیں۔

حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا بھی اعلان کر دیا ہے، لیکن مظاہرے ختم نہیں ہوئے، اس سے قبل پوری حکومت بھی مستعفی ہو گئی تھی، تاہم اب مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے روسی فوج کو استعمال کرنے پر اپوزیشن سراپا احتجاج بن گئی ہے۔

قازقستان: مشتعل شہریوں نے فوجی گاڑی گھیر کر اہلکاروں کو پکڑ لیا (ویڈیو)

فوج نے الماتے ایئر پورٹ اور تمام سرکاری املاک کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے، دوسری طرف اقوام متحدہ، امریکا اور برطانیہ نے صورت حال پر تشویش ظاہر کی ہے، جب کہ ترک صدر نے قازق حکومت سے یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں