The news is by your side.

Advertisement

لندن میں حاملہ خاتون چاقو زنی کی واردات میں ہلاک

لندن: برطانیہ میں چاقو زنی کی واردات میں بدستور اضافہ ہوتا جارہا ہے، گزشتہ روز خنجر کے وار کا نشانہ بننے والی حاملہ خاتون جائے حادثہ پراپنے بچے کو جنم دیتے ہوئے ہلاک ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی دارالحکومت لندن کے جنوبی علاقے کروئیڈن میں چاقو حملے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس میں کائل میری نامی 26 سالہ حاملہ خاتون زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئی۔

میڈیا ذرائع کا کہنا تھا کہ چاقو زنی کا نشانہ بننے والی خاتون نے جائے وقوعہ پر ہی 8 ماہ کے بچے کو جنم دیا جسے ریسکیو اہلکاروں نے تشویش ناک حالت میں استپال میں منتقل کیا، جہاں وہ زندگی کےلیے موت سے لڑرہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ پولیس نے قتل کے شبے میں دو افراد کو گرفتار کیا تھا، 29 سالہ ملزم تاحال پولیس کی تحویل میں ہے جبکہ 37 سالہ ملزم کو رہا کردیا تاہم وہ اب بھی زیر تفتیش ہے۔

پولیس چیف کاکہنا تھا کہ یہ ایک خوفناک حادثہ ہے ’پولیس کی ہمدردیاں متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں‘ پولیس واقعے کی تحقیقات میں جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کررہی ہے ملزمان کو انصاف کے کہٹرے میں ضرور لائیں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ لندن ایمبولینس سروس نے خاتون کو بچانے کےلیے فوری طور پر ایک ایئر ایمبولینس ، دو ایمبولینس عملے کےساتھ اور دو رسپورنس کاریں روانہ کی تھی تاہم وہ خاتون کو بچانے میں ناکام رہے۔

خاتون کے پڑوسی چندرا موتوکومارنا کا کہنا تھا کہ ’میں 1976 سے یہاں مقیم ہوں، حادثے کا سنا تو صدما لگا اور پڑوسی ہوں اس لیے اور بھی زیادہ دکھ ہوا لیکن بچے کے حوالے سے پُر امید ہوں‘۔

خاتون کے ایک اور پڑوسی نے مقتول خاتون کائل میری سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے بتایا مقتول بہت اچھی لڑکی تھی جو تین دیگر خواتین اور ایک کتے کے ہمراہ مقیم تھی۔

لندن کے میئر صادق خان نے ٹویئٹر پر تحریر کیا کہ ’ہمارے معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد اور غیرت کے نام پر گھر میں قتل ہونا عام سی بات ہے، میری دعائیں معصوم بچے کے ساتھ ہیں جس نے بدقسمتی سے اپنی ماں کو کھو دیا‘۔

برطانیہ میں بڑھتی ہوئی چاقو زنی کی وارداتوں نے حکام کے لیے بڑی چیلنج کھڑا کردیا، وارداتوں کے اعدادوشمار گزشتہ دس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں