بدھ, مئی 22, 2024
اشتہار

نئی فوجی عدالتیں نہیں بنا رہے ہیں، وزیر دفاع

اشتہار

حیرت انگیز

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں سے ملک دشمنوں جیسا سلوک ہوگا تاہم ملک میں نئی فوجی عدالتیں نہیں بنا رہے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں یادگار شہدا پر حاضری دی اور پھول رکھے۔ جس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جی ایچ کیو، ایئر بیس اور فوجی تنصیبات پر حملہ بھارت کے مقاصد میں شامل ہے۔ جب شہدا کی تصاویر پر حملہ کیا گیا تو ان کے خاندانوں پر کیا بیت رہی ہوگی۔ وطن عزیزسے کسی کی وفاداری پر شک نہیں کرتا لیکن 9 مئی کو جنہوں نے حملہ کیا ان کی نیت اور ان کے مٹی سے رشتے پر سوالیہ نشان نظر آتا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ 9 مئی کا حملہ پاکستان کی سالمیت اور وجود پر تھا۔ کور کمانڈر ہاؤس اور میانوالی ایئربیس واقعات اور بھارت نے جو حملہ کیا دونوں میں کوئی تفریق نہیں۔ جو تنصیبات پر حملہ کر رہے تھے ان کی فوٹیج، چہرے اور شناخت موجود ہیں۔ حملہ کرنیوالوں کیساتھ وہی سلوک ہوگا جو دشمن کیساتھ کیا جاتا ہے۔ شرپسندی میں ملوث جن افراد کی شناخت ہوچکی ہے ان پر فوجی عدالت میں  مقدمہ چلایا جائے گا۔

- Advertisement -

انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں نئی فوجی عدالتیں نہیں بنا رہے ہیں اس حوالے سے پہلے سے قانون موجود ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اقتدارآتا جاتا رہتا ہے، سیاستدانوں سے اقتدار چھن جاتا ہے، ہمارا اقتدار بھی کئی بار آیا اور گیا مگر ہم نے یہ رویہ نہیں اپنایا۔ پی ٹی آئی اور اس کے رہنما ادارے کو ٹارگٹ کر رہے ہیں۔ 9 مئی کو ایک شخص نے اقتدار کی خاطر ملک کی اساس پرحملہ کیا۔ عمران خان اس معاملے میں دوسرے ممالک کو بھی شامل کر رہے ہیں۔ باقاعدہ منصوبے کے تحت ایک تاثر پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ آپ ان قوتوں سے آگاہ ہیں جو تفرقہ پھیلا رہی ہیں۔ یہ وہ قوتیں ہیں جو تفرقہ پھیلا کر اقتدار کو دوبارہ اپنے قبضے میں لانا چاہتے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستانی عوام اپنی افواج سے محبت کرتے ہیں جو وطن عزیز کے دفاع میں پرسر پیکار ہے۔ برف پوش پہاڑوں، سیاچن گلیشیئر سے لے کر فاٹا، افغانستان کی سرحدوں تک حفاظت پر مامور ہیں۔ رینجرز، پولیس اور افواج پاکستان کی دہشتگردی کیخلاف قربانیاں ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ آج بھی ہماری افواج وطن عزیز کیلیے جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت یکجہتی اور قومی اتحاد کی ہے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں