site
stats
پاکستان

امریکا کو واضح کردیا پہلے اپنا گھر درست کرے، خواجہ آصف

khawaja asif

اسلام آباد: وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ریکس ٹلرسن نے وہی کہا جو امریکی پہلے سے کہہ رہے ہیں، پاکستانی وفد نے آج کی ملاقات میں اپنا مؤقف کھل کر پیش کیا اور واضح کیا کہ امریکا پہلے اپنا گھر درست کرے۔

نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں اب دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہ موجود نہیں ہے، ہماری سرزمین سے دہشت گردی کی منصوبہ بندی نہیں ہورہی۔

وفاقی وزیرخارجہ نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررکھا ہے اور یہی کچھ باتیں آج  ریکس ٹلرسن نے کی ملاقات میں کہیں ، ہم نے اپنا مؤقف کھل کر پیش کیا اور امریکی وزیرخاجہ کو آگاہ کیا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نےصاف کہا مشکلات امریکا کی افغان جہاد پالیسیوں کی وجہ سے معاملات گھمبیر ہوئے، امریکا کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اعتماد کی فضاء کو بحال کر کے ساتھ چلنا ہوگا۔

پڑھیں: پاکستان سے تعلقات کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

انہوں نے کہا کہ حکومت اور پاک فوج ایک صفحے پر ہیں، اداروں کے یکساں بیانیے سے پاکستان کے مؤقف کو تقویت ملی اور دنیا کو اچھا پیغام گیا، امریکا کو  اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ اپنا گھر درست اور ڈومور ، نومور جیسے مطالبات کے بجائے اعتماد پیدا کریں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان کا امن دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور یہ باہمی اعتماد کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا، پاکستان کی طرح امریکا بھی مشرقی سرحدوں پر امن کا خواہش مند ہے اس لیے ٹرمپ انتظامیہ اور ہمارے درمیان اعتماد بحال ہورہا ہے۔

وفاقی وزیر خارجہ نے کہا کہ اتحادی افواج نے بھی افغانستان میں  کوئی خاص کامیابیاں حاصل نہیں کیں اس لیے طالبان آج بھی افغانستان کے 45 فیصد علاقے پر قابض ہیں، دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام تیزی سے جاری ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ بھارت نے حریت رہنماؤں کو دباؤ میں لے کر مذاکرات کی دعوت دی جس پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں، مودی حکومت مسئلہ کشمیر پر اندرونی دباؤ کا شکار ہے ۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top