The news is by your side.

Advertisement

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمےدار حکمران نشان عبرت بنیں گے، خرم نواز گنڈاپور

لاہور : پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈاپور  کا کہنا ہے کہ ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی کے سامنے شہباز شریف کی حالت قابل رحم تھی، سانحہ ماڈل ٹاؤن کےذمےدار حکمران نشان عبرت بنیں گے ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے اپنے بیان میں کہا ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی کے سامنے شہباز شریف کی حالت قابل رحم تھی، جے آئی ٹی میں شہباز شریف کی زبان لڑکھڑا رہی تھی، یہ وہی شہباز شریف ہے جس کی انگلی کےاشارے پر افسر کانپتے تھے۔

خرم نواز گنڈاپور کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کےذمےدار حکمران نشان عبرت بنیں گے ، آصف زرداری اور بلاول اضطرابی کیفیت کا شکار ہیں۔

گزشتہ روز سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں آئی جی موٹر وے اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں جے آئی ٹی نے کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے دوگھنٹے سے  زائد پوچھ گچھ کی اور نواز شریف کا بیان ریکارڈ کیا۔

اس سے قبل اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کرنےوالی نئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرایا تھا، شہباز شریف الزامات سے ایک گھنٹے زائد وقت پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

یاد رہے 24 فروری کو سانحہ ماڈل ٹاؤن مقدمے میں نامزد 7 سیاسی شخصیات کو جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے تفتیش کے لیے طلب کیا تھا، جس کے بعد خواجہ آصف ، رانا ثنااللہ اور پرویز رشید جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں : سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس : شہبازشریف نے نئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرادیا

جے آئی ٹی 85 سے زائد شاہدین اور 90 پولیس اہلکاروں کے بیان ریکارڈ کرچکی ہیں۔

خیال رہے پہلے بنی جی آئی ٹی پرعدم اطمینان کے بعد 19 نومبر 2018 کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کے لیے 5رکنی لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا اور 5 دسمبر کو حکومت کی جانب سے کیس میں نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کی یقین دہانی کرانے پر سپریم کورٹ نے درخواست نمٹا دی تھی۔

بعد ازاں 3 جنوری 2019 کو محکمہ داخلہ پنجاب نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر نئی جے آئی ٹی تشکیل دی تھی ،جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ آئی جی موٹر ویز اے ڈی خواجہ ہیں۔

واضح رہے کہ جون 2014 میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں جامع منہاج القرآن کے دفاتر اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر بیرئیر ہٹانے کے لیے خونی آپریشن کیا گیا، جس میں خواتین سمیت 14 افراد جاں بحق جب کہ 90 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں