The news is by your side.

Advertisement

جمہوریت کی گاڑی کو پنکچر نہیں کرنا چاہتے،خورشید شاہ

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں آج قائدِ حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نےکوئی سازش تیار نہیں کی بلکہ پانامہ پیپرز پر وزیرِاعظم کے اہلِ خانہ کے متضاد بیانات نے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں۔ ہم جمہوریت کی گاڑی کو پنکچر نہیں کرنا چاہتے۔

قائدِ حزب اختلاف خورشید شاہ نے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم کو مشورہ دیتے‌ہوئے کہا کہ مسائل جلسے جلوسوں میں حل نہیں ہوتے ہم نے بار بار وزیرِاعظم سے کہا کہ آپ پارلیمنٹ میں آئیں،پارلیمنٹ آپ کا فورم ہے، پی ٹی وی پر خطاب یا جلسے جلوس نہیں۔

انہوں نے وزیر اعظم کو تنبیہ کی اگر پارلیمنٹ نہیں آئیں گے تو ’’دوسروں‘‘ کو موقع ملے گا،وزیر اعظم سے اپوزیشن نے کوئی بڑا مطالبہ نہیں کیا تھا، بہت ہی آسان سے 7 سوالات پوچھے تھے،لیکن وزیرِ اعظم کے خطاب سے پوری قوم کو مایوسی ہوئی۔

قائدِ حزب اختلاف خورشید شاہ نے افسوس‌کا‌اظہار‌کرتے‌ہوئے‌کہا‌کہ‌ اخبارات‌ میں وزیر اعظم کی آمد پر بڑی بڑی ہینڈ لائینز لگیں جس سے ایسا تاثر آیا کہ جیسے کوئی رکنَ اسمبلی نہیں بلکہ چائناء یا کسی اور دوسرے ملک کے صدر اسمبلی میں آکر خطاب کر رہے ہو،وزیر اعظم کی آمد انہونی بات نہیں مگر میاں صاحب کی پارلیمنٹ سے مسسلسل غیر حاضری سے یہ مذاق بنا۔

اپنے خطاب میں قائدَ حزبِ اختلاف نے وزیرِ اعظم پر واضح کیا کہ‌ موجودہ تحریک اپوزیشن‌کی سازش نہیں ہے بلکہ آپ کے اہلِ خانہ کے متضاد بیانات کی وجہ سے قوم کے لوگوں کے ذہنوں پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں.

اپوزیشن نے انہی شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لیے ہی 7 سوالات پوچھے تھے،جس کا جواب نہیں دیا گیا،بلکہ اِدھر اُدھر کی باتیں کی گئیں،وزیر اعظم کے اس مبہم خطاب کی وجہ سے مزید سوالات نے جنم لیا،اور اپوزیشن کے سوالات 7 سے بڑھ کر 70 ہوگئے. ان سوالات پر ناراض ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب کے دوران وزیرِاعظم سے پوچھا کہ آپ کے بہ قول جب ساری جائیداد ختم ہو گئی تھی تو کیسے گلف اسٹیل کا قیام عمل میں آیا؟ رقوم کی منتقلی کیسے ہوئی؟ کیا یہ اثاثہ جات ’’ڈکلئیرڈ‘‘ تھے؟

قائدِ حزب اختلاف خورشید شاہ نےوزیر اعظم کی جانب سے اربوں کا ٹیکس دینے‌کےدعوی‌ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حقائق یہ ہیں کہ 1972 میں آپ کے پاس کچھ نہیں تھا،آپ تحریک استقلال کے رکن تھے،بھلا ہو ضیاءالحق کا جس نے آپ کو اتفاق فاؤنڈری واپس کی۔

اس‌ موقع‌ پر خورشید شاہ نے سوال اُٹھایا کہ بھٹو دور میں نیشنلائزڈ ہونے والی کسی کمپنی کو واپس نہیں کیا گیا تھا،یہاں بھی نظرِ کرم میاں صاحب کے لیے ہی کیوں مخصوص تھی؟

انہوں نے مزید کہا کہ اگر میرا بیٹا یہ کہہ دے کہ پاکستان میں بڑے ٹیکس لگتے ہیں اس لیے کاروبار آف شورز کمپنی کے ذریعے کیا جائے تو یہ نہایت افسوس کی بات ہے، اگر ہماری اولادیں ایسا کریں گی تو ہم دوسروں سے ٹیکس دینے کی درخواست کریں گے؟

قائد حزب اختلاف نے وزیرِاعظم کے بیٹے کے بیان پر کہا اگر کسی کو پاکستان میں ٹیکس دینا اتنا ہی برا لگتا ہے تو پاکستانی شہریت کو خیر آباد کہہ کر وہیں مستقل سکونت اختیار کر لے،اسی لیے بھٹو شہید کسی دہری شہریت رکھنے والوں کے اسمبلی کا رکن بننے کے مخالف تھے کیونکہ ایسے لوگوں کے مفادات ہمارے ملک سے جڑے نہیں ہوتے،نہ انہیں قومی مسائل کا ادراک ہوتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن کا مقصد وزیرِ اعظم کو کرپٹ ثابت نہیں کرنا چاہتے،ہم نے ٹی او آرز اس لیے بنائے کہ آپ کے اہلِ خانہ نے لندن فلیٹس اور آف شورز کمپنیوں کے حوالے سے متضاد بیانات دیے جس کی وجہ سے قوم کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں، اور ہم چاہتے ہیں کہ قوم کے شکوک دور ہوں تاکہ لوگوں کا جمہوریت اور جمہوری سیاست دانوں پر اعتماد بحال رہے۔

آخر میں قائدِ حزبِ اختلاف نے تنبیہ کی تاہم اگر وزیرِ اعظم ان سوالات کے جوابات نہیں دیں گے تو قوم کے ذہنوں میں آنے والے شکوک و شبہات نے گہرے ہو جائیں گے تو اس سے ’’دوسری قوتیں‘‘ فائدہ اُٹھائیں گی،اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ جمہوریت کی گاڑی راستے میں پنکچر ہو جائے‌گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں