site
stats
پاکستان

دوسرا وزیراعظم لانے کا کوئی آپشن نہیں، خواجہ آصف

khuwaja asif

سیالکوٹ : وفاقی وزیر دفاع و بجلی و پانی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ شریف خاندان نے تین نسلوں کا حساب دے دیا، نواز شریف کی نا اہلی کا نہیں سوچا، دوسرا وزیر اعظم لانے کا کوئی آپشن نہیں، عمران خان ڈبل شاہ ہے، انہوں نے کالا دھن سفید کیا اس کی تلاشی کی باری اب شروع ہوئی ہے، نوازشریف سرخرو ہوں گے ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیالکوٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب عمران خان اور جہانگیر ترین بھی نوازشریف کی طرح اپنے والد کا حساب دیں، عمران خان کو فطروں اورخیرات کے پیسوں کا حساب دینا ہوگا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کو خیراتی ادارے کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے، جس کڑے احتساب سے ہم گزرے مخالفین کو بھی گزرنا ہوگا، عمران خان نے ایمنسٹی اسکیم میں ایک فیصد دے کر اپنا کالا دھن سفید کیا، یہ ڈبل شاہ ہے۔

عمران خیرات کے پیسے سے بیرون ملک کاروبار کرتے ہیں اور میں اس الزام پر قائم ہوں اور میرے خلاف عدالت میں ہرجانے کا دعویٰ ہے اور میں اس الزام پر قائم ہو ں کہ قوم کی خیرات کو لٹایا گیا ہے جس کا عمران خان کو کوئی اختیار نہیں ہے۔

عمران خان نے تو عدالت میں کہہ دیا ہے کہ ان کے پاس ریکارڈ نہیں، عدالتوں میں یہ لوگ ٹائیں شائیں کرتے ہیں ان کےوکیل نہیں آتے، انصاف کے تقاضوں کی بات نہیں کروں گا وہ عدلیہ جانے اور اس کا کام۔

انہوں نے کہا کہ شوکت خانم کو کون لوگ پیسے دیتے ہیں، بھارت کے متل کا پوتا اورایک یہودی کیوں انہیں فنڈ دیتے ہیں، اب دیکھنا ہوگا کہ شوکت خانم اور دیگرادارے منی لانڈرنگ میں تو استعمال نہیں ہورہے؟ عمران خان نے ثابت کرنا ہے کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کا بنی گالہ کا ہزاروں کنال کا گھر بھی متنازعہ ہے کیونکہ وہ کبھی اپنی متعلقہ بیوی کے پیسوں سے خرید اری کا کہتے ہیں تو کبھی کہتے ہیں باہر فلیٹ خرید کر بنایا تھا، مطلقہ بیویاں تو نان نفقہ مانگتی ہیں جبکہ عمران خان کو اس کی مطلقہ بیویاں کروڑوں روپے بھیج رہی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دوسرا وزیراعظم لانے کا آپشن زیر غور نہیں ہے، وزیراعظم کی نااہلی کے بارے میں ہم نے سوچا تک نہیں، موجودہ حالات میں پاکستان اس طرح کی سوچ کا متحمل نہیں ہو سکتا، نااہلی کی باتیں محض مفروضہ ہیں اور میں کسی مفروضے پرتبصرہ نہیں کروں گا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top