The news is by your side.

Advertisement

خیبر ٹیچنگ واقعہ: غفلت کا مرتکب کون؟ رپورٹ تیار

پشاور: خیبر ٹیچنگ اسپتال میں آکسیجن سلنڈرز کی کمی کے باعث ہونے والی اموات پر فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ تیار کرلی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بورڈ آف گورنرز کی جانب سے تیار کی گئی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی روشنی میں اسپتال ڈائریکٹر سمیت سات ملازمین کو معطل کردیا گیا ہے، معطل کئے جانےوالوں میں فیسیلیٹی منیجر، منیجر سپلائی چین، بائیو میڈیکل انجینئر، آکسیجن پلانٹ اسسٹنٹ سمیت آکسیجن پلانٹ پر ڈیوٹی دینے والے دو ملازم شامل ہیں۔

فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق سسٹم فیلیئر کے باعث واقعہ رونما ہوا، آکسیجن ٹینک میں کمی کے باوجود دھیان نہیں دیا گیا، اسپتال کے پاس آکسیجن کا کوئی بیک اپ موجود نہیں تھا جبکہ فیسیلٹی منیجر نے بروقت ملازمین کی غیر حاضری رپورٹ ہی نہیں کی۔

Image

رپورٹ میں کہا گیا کہ سپلائی چین نے مطلوبہ آکسیجن بر وقت مہیا نہیں کی، اسپتال کے پاس ایمرجنسی ریسکیو اسکواڈ موجود نہیں، آکسیجن پلانٹ اسٹاف کو مزید تربیت کی ضرورت ہے۔

بورڈآف گورنرز کی جانب سے تیار کی گئی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پاکستان اسٹینڈرڈ آکسیجن لمیٹڈ کےتحت آکسیجن کی سپلائی مزید بہتر کی جائے، آکسیجن پلانٹ پر اعلیٰ اور قابل اسٹاف بھرتی کیا جائے اور اسپتال میں ایمرجنسی ریسکیو اسکواڈ کو منظم کیاجائے۔Regular Health Services Resumed After decline in Covid-19 - Daily Timesدوسری جانب وزیراعلیٰ کےپی کے نے بھی خیبرٹیچنگ اسپتال واقعے پر جائزہ اجلاس طلب کرلیا ہے، اجلاس میں صوبے میں کروناصورتحال سمیت ایم ٹی آئی اسپتالوں میں سہولتوں کاجائزہ لیاجائےگا۔

یہ بھی پڑھیں:  پشاور اسپتال میں آکسیجن کی کمی سے 6 مریض انتقال کر گئے

واضح رہے کہ پشاور کے خیبر ٹیچنگ اسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے چھ مریض جاں بحق ہو گئے تھے، ترجمان خیبر ٹیچنگ اسپتال کا کہنا ہے کہ آکسیجن ٹینکر راولپنڈی سے لائے جاتے ہیں، ناگزیر وجوہ سے سلنڈر سپلائی میں تاخیر ہوئی، جس کے باعث چند مریض انتقال کر گئے۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق 3 سے 4 مریضوں کا انتقال ہوا ہے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ آکسیجن پلانٹ میں آکسیجن بروقت کیوں موجود نہیں تھا، اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں۔

اسپتال ذرائع کے مطابق بی او سی نامی کمپنی آکسیجن سلنڈر سپلائی کرتی ہے، سپلائی میں تاخیر کی وجہ سے سانحہ رونما ہوا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں