The news is by your side.

کراچی میں بچوں کے اغواء کی تمام وارداتیں جھوٹی نکلیں، پولیس

کراچی : شہر قائد کے مختلف علاقوں میں بچوں کے اغواء کی افواہیں پھیلنے لگیں، لوگ ذاتی جھگڑوں کی آڑ میں بچوں کے اغوا سے جوڑ کر دشمنیاں نکال رہے ہیں۔

اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کراچی میں اغواء کی جھوٹی خبریں سوشل میڈیا پر منظم انداز سے پھیلائی جارہی ہیں۔

لوگ مختلف علاقوں میں لوگوں کو اغواء کار قرار دے کر انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ویڈیوز بنارہے ہیں چند روز کے دوران شہر میں رپورٹ ہونے والی اغواء کی تمام وارداتیں جھوٹی اورغلط ثابت ہوئیں۔

پولیس کے مطابق شریف آباد میں کم عمر افغانی لڑکوں کو اغواء کار قرار دے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، شریف آباد پولیس نے معاملے کی تحقیقات کیں تو معاملہ ہی کچھ اور نکلا۔

تحقیقات کے دوران تشدد کرنے والے افراد نے پولیس کے سامنے تردیدی بیان بھی جاری کردیا، اس کے علاوہ موسمیات چورنگی کے قریب خواتین کو اغواء کارقرار دے کر لوگوں نے ان پر تشدد کیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ معاملہ جب مبینہ ٹاؤن تھانے پہنچا تو تفتیش میں واقعہ کچھ اور نکلا، اغواء کار قرار دی گئی خواتین کسی بچے کو لے کر نہیں جارہی تھی، واقعہ غلط فہمی کی بناپرپیش آیا۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر گزشتہ چند روز سے الفلاح کے علاقے سے لڑکی کے اغوا کی پوسٹ وائرل ہے الفلاح پولیس نے ایسے واقعے کی بھی تردید کردی۔

اورنگی ٹاؤن میں بھی ایک لڑکی کو اغوا کار قرار دے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پولیس نے معاملے کی تحقیقات کیں تو معاملہ ذاتی جھگڑے کا نکلا۔

بوٹ بیسن میں بھی چند خواتین کو اغواء کار قرار دیا گیا، تشدد کے بعد پولیس کےحوالے کیا گیا، بوٹ بیسن پولیس کے مطابق خواتین پرتشدد کا واقعہ آپسی جھگڑے کے دوران پیش آیا، شہری افواہوں سے گریز کریں کسی کو بھی بلاوجہ تشدد کانشانہ نہ بنائیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں