اتوار, مئی 26, 2024
اشتہار

کسان اتحاد کا گندم کی خریداری کیلیے حکومت کو الٹی میٹم

اشتہار

حیرت انگیز

کوئٹہ: کسان اتحاد کے مرکزی چیئرمین خالد حسین باٹھ و دیگر نے گندم کی خریداری کیلیے پنجاب حکومت کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم دے دیا۔

خالد حسین باٹھ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کسانوں پر ہونے والے لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں، 29 اپریل کو کسانوں پر لاٹھی چارج پر یوم سیاہ منانے کا اعلان کرتے ہیں،،

انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات جائز ہیں صرف گندم خریداری کا کہہ رہے ہیں، اگر اگلے ہفتے تک گندم کی خریداری شروع نہیں کی تو بھرپور احتجاج کریں گے۔

- Advertisement -

مرکزی چیئرمین کسان اتحاد نے کہا کہ گندم نہ خریدنے پر احتجاجاً ریلوے ٹریک اور قومی شاہراہیں بلاک کر دیں گے، بلوچستان کے کسانوں کو فری سولر فراہم کیے جائیں، کسان 29 اپریل کو ری ایکشن کرتے تو سانحہ ماڈل ٹاؤن سے زیادہ بڑا حادثہ ہو سکتا تھا۔

گزشتہ روز امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کسانوں سے گندم کی خریداری کیلیے وفاقی اور پنجاب حکومت کو چار دن کا الٹی میٹیم دیا تھا۔

حافظ نعیم الرحمان نے نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ 4 دن میں کسانوں سے گندم نہ خریدی تو وزیر اعلیٰ پنجاب ہاؤس پر دھرنا دیں گے، حکومت ہوش کے ناخن لے اور اپنا فیصلہ واپس لے، احتجاج روکنے کی کوشش کی تو حکومت گرانے کی تحریک کسانوں سے شروع ہو جائے گی۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا تھا کہ جو اس کھیل میں ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور زرعی اراضی کسانوں میں تقسیم کی جائے۔

انہوں نے کہا تھا کہ کسانوں نے بڑی محنت سے گندم اگائی اب اس کے پھل کھانے کا وقت آیا ہے، حکومت کی طرف سے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جس سے محنت ضائع ہونے کا خدشہ ہے، کسانوں کو سمجھ نہیں آ رہا وہ اپنے حق کیلیے کیسے آواز بلند کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت عین وقت پر اعلان کر دے کہ خریداری نہیں کریں گے تو کسان کہاں جائے؟ دنیا بھر میں بنیادی زراعت کی چیزیں مقدم رکھی جاتی ہیں، زراعت سے متعلق چیزوں پر ہر حکومت سبسڈی دیتی ہے تو عام آدمی کو آٹا سستا ملے اور کسان کو اجرت بھی ملے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا تھا کہ جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس معاملے پر خاموش نہیں بیٹھیں گے، گندم درآمد کی منظور دینے والوں کو انکوائری کمیشن میں آنا ہوگا، پنجاب اور وفاقی حکومتوں کو 4 دن کا الٹی میٹم دے رہے ہیں۔

امیرجماعت اسلامی نے کہا تھا کہ سوال یہ ہے ملک میں گندم تھی تو امپورٹ کیوں کی گئی؟ جن لوگوں نے گندم باہر سے امپورٹ کی وہ مافیا ہے، گندم خرید کر ملک کا نقصان کیا گیا، ایک طرف وزیر اعظم شہباز شریف بیان دیں گندم کی خریداری کریں گے جبکہ دوسری طرف ان کی بھتیجی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز احکامات دیں ہم گندم نہیں خریدیں گے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں