The news is by your side.

Advertisement

ایمل ولی کی کوششیں، صوابی میں صدیوں پرانے کھیل موخہ کے مقابلوں کا انعقاد

پشاور: صوبائی سطح پر موسیقی کے بعد کھیلوں کے فروغ کے لیے بھی ایمل ولی خان نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے مقابلوں کا انعقاد کروایا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے پشتو موسیقی کو زوال سے بچانے کے لیے انگازئی کے نام سے پروڈکشن ہاؤس بنایا تھا، اب انھوں نے صوبے میں کھیلوں کو فروغ اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کا بھی سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

ایمل ولی کی ہدایت پر بننے والے باچا خان ٹرسٹ اسپورٹس فاؤنڈیشن نے صوبے کی سطح پر باچا خان گولڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے، اس ٹورنامنٹ میں مردان، چارسدہ، پشاور، نوشہرہ اور صوابی کی ٹیمیں شامل ہوں گی، اسی طرح صوبے کے مختلف اضلاع میں ضلعی سطح پر دیگر کھیلوں کے ٹورنامنٹس کے انعقاد کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

پہلے مرحلے میں صوابی میں صدیوں پرانے کھیل موخہ (مقامی تیر اندازی)، مردان میں قومی کھیل ہاکی، ملاکنڈ میں فٹ بال، سوات میں والی بال اور لوئر دیر میں ٹیپ بال ٹورنامنٹس کا انعقاد کیا جائے گا۔

ایمل ولی خان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت مختلف کھیلوں میں غیر معمولی کھلاڑیوں کو تربیت کے لیے بیرون ملک بجھوانے کے لیے وظائف کا بندوبست بھی کرے گی، تاکہ یہ نوجوان اپنا ٹیلنٹ ملک و قوم کے لیے بہتر انداز میں استعمال کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختون خوا کے کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، بس انھیں صرف نکھارنے کی ضرورت ہے، اور اسی مقصد کے لیے باچا خان ٹرسٹ کے زیر انتظام کھیلوں کی ترقی کے لیے اسپورٹس فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اگر چہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کی سیاست میں ایک مرکزی جماعت کے طور پر جانی جاتی ہے تاہم ملکی سیاست میں بھی اس سیاسی جماعت نے ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم کچھ عرصہ قبل اس جماعت کے نوجوان صوبائی صدر ایمل ولی خان نے پشتو موسیقی کو زوال سے بچانے کے لیے پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ باچا خان مرکز پشاور میں انگازئی کے نام سے پروڈکشن ہاؤس بناکر معیاری پشتو موسیقی کی ترویج کی ذمہ داری اٹھائی۔

اس پروڈکشن ہاؤس میں صرف معیاری موسیقی کی شرط پر 7 ہزار روپے کی معمولی فیس کے عوض مقامی گلوکاروں کو جدید ریکارڈنگ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، جب کہ غریب اور مستحق فن کاروں کو مفت ریکارڈنگ کے ساتھ ساتھ آنے جانے کا کرایہ بھی دیا جاتا ہے۔

فن کے دل دادہ ایمل ولی خان نے اسی پر بس نہیں کیا، بلکہ موسیقی سے دل چسپی رکھنے والے نوجوانوں کو طبلہ، ڈھول، ہارمونیم اور رباب کی تربیت کے لیے کلاسز کے آغاز کا عندیہ بھی دیا، جس پر مذہبی جماعتوں کی طرف سے اے این پی اور ایمل ولی خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں