The news is by your side.

Advertisement

خبرپختونخوا اسمبلی میں فاٹا کی نمائندگی کیلئے اہم حکومتی اقدامات

پشاور: نیشنل ایکشن پلان کے تناظر میں قبائلی علاقوں میں اصلاحات متعارف کرانے کی غرض سے 2016 میں وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم کی گئی کمیٹی نے سفارشات مرتب کی ہیں اس کے تحت قبائلی علاقوں کو اگلے پانچ برس میں خیبر پختونخوا کا حصہ بننا ہے اور اگر ایسا ہوا تو 2023 کے عام انتخابات کے نتیجے میں فاٹا کی خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی ہوسکتی ہے۔

اس عمل پر جہاں ایک طرف چند قبائلی حلقے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں وہی خیبر پختونخوا حکومت کی خواہش ہے کہ فاٹا کو 2018 کے عام انتخابات سے قبل خیبر پختونخوا میں ضم کرکے اسمبلی کی نشستوں کا ازسرنو تعین کرکے نمائندگی دی جائے۔

فاٹا کے عوام کو فیصلے کا اختیار دیا جائے،فوجی حلقے 

اس حوالے سے فوجی حلقوں کا مؤقف ہے کہ پہلے بلدیاتی الیکشن کروائے جائیں اور اس کے منتخب نمائندوں کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے۔ فوج نے قبائلی علاقوں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے متعدد آپریشن کیے اور 2014 میں شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کے بڑے حصے سے دہشت گردوں کا صفایا کرکے اب وہاں آباد کاری اور ترقیاتی عمل کا آغاز کیا ہوا ہے لہٰذا ان کی جانب سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ قبائل کو ان کے مستقبل کے حوالے سے منقسم کرنے کی بجائے متحد رکھا جائے تاکہ وہ یکسوئی سے فیصلہ کرسکیں۔

حکومتی کمیٹی نے منظورنظرافراد سے ملاقات کی، قبائلی عمائدین کا شکوہ 

سرتاج عزیز کمیٹی کے حوالے سے اکثر قبائلی عمائدین کا دعویٰ ہے کہ کمیٹی نے ان لوگوں سے ملاقات کی جو قبائلی علاقوں میں کام کرنے والی انتظامیہ کے منظور نظر تھے اور انہوں نے عام لوگوں سے ملاقات نہیں کی، اس تاثر کو کمیٹی درست نہیں مانتی۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات تو مرتب کی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے اجلاس تاحال جاری ہیں اور اس حوالے سے بدھ کے روز بھی ایک اجلاس گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا جس کی صدارت گورنر خیبر پختونخواہ اقبال ظفر جھگڑا نے کی۔

اجلاس میں اہم تجاویز دی گئیں 

اجلاس کے شرکاء میں وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک ،وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ( لیفٹننٹ جنرل) ریٹائرڈ ناصرجنجوعہ، سینئروزراء خیبرپختونخوا عنایت اللہ، اورسکندرخان شیرپاؤ، مشیر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مشتاق غنی، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا امجد علی خان، سیکرٹری سیفران ارباب شہزاد، آئی جی پولیس خیبرپختونخوا ناصردرانی، اے سی ایس فاٹا فدا وزیر کے علاوہ متعلقہ دیگر حکام شامل تھے۔

قبائلی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کی تجویز

اس موقع پر سرتاج عزیز نے اجلاس کے دوران فاٹا میں اصلاحات کے چیدہ چیدہ امور پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سفارشات میں فاٹا میں لینڈ ریفارمز کرنا اور ایف سی آر کے قانون کی جگہ Trible Areas Rewaj Act نافذ کرنا بھی کی سفارشات میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح ہائی کورٹ کے ماتحت عدلیہ کا نظام رائج کرنا اور قبائلی علاقوں میں پہلے مرحلے میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

ایف سی کا ایک اسپیشل ونگ بنانے کا فیصلہ

اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے افغانستان سے ملحقہ سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے ایف سی کا ایک اسپیشل ونگ بنانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ فاٹا میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنے اوروہاں انفراسٹرکچر خصوصاً سڑکیں اوراسکولوں اور کالجوں وغیر ہ کی تعمیر و ترقی کیلئے بھی 10 سالہ منصوبے پرعمل کیا جائے گا جس کیلئے فنڈ وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔

فاٹا کو انتخابات سے قبل کے پی کے کا حصہ بنادیا جائے، وزیراعلیٰ

اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے تجویز دی کہ فاٹا کو 2023 کے بجائے 2018 کے عام انتخابات سے قبل خیبر پختونخوا کا حصہ بنا یا جائے اور صوبائی اسمبلی میں ان کی نشستوں کا تعین کیا جائے اور اس کے ساتھ ہی قبائلی ایجنسیوں کو بھی صوبے کے ضلعی یونٹس میں ضم کیا جائے۔

فاٹا کو ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں لایا جائے، پرویز خٹک

وزیراعلیٰ کی یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ فاٹا کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں لایا جائے اور 1973 کے آئین کو مکمل طور پر لاگو کیا جائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ فاٹا کو صوبے میں ضم کے کا مقصد وہاں حکومتی اخیتار قائم کرکے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں