The news is by your side.

Advertisement

خیبرپختونخوا اسمبلی میں پانامہ تحقیقات کی قرارداد منظور

پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی نے پانامہ لیکس کی فوری اور غیر جانبدار تحقیقات عدلیہ سے کروانے کی قرارداد اکثریت رائے کے ساتھ منظور کر لی گئی جبکہ مسلم لیگ ن نے قرارداد کی مخالفت کی۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی میں اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر محمد علی شاہ نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے قرار داد پیش کی۔

ایوان میں پیش کی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ’’پاناما لیکس کی صورت میں دنیا کا سب سے بڑا کرپشن اسکینڈل سامنے آیا ہے ، اس میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے نام بھی شامل ہیں‘‘۔

پڑھیں:  نوازشریف کی موجودگی میں پارلیمنٹ میں نہیں آئیں گے، عمران خان

 قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہےکہ ’’اپوزیشن کی مشاورت سے ٹی او آرز تشکیل دیے جائیں اور عدلیہ سے پانامہ لیکس کی فوری اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرنے کی سفارش کرے تاکہ ملک کا پیسہ لوٹنے والوں کا احتساب کیا جاسکے‘‘۔

مزید پڑھیں:  پاناما لیکس کرپشن کی کھلی کتاب ہے، دال میں کچھ کالاہے، سید خورشید شاہ

ایوان میں رائے شماری کے دوران مسلم لیگ ن کے اراکین نے مخالفت کی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تاہم تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے اراکین نے قرارداد کی تائید کی جس کے بعد وہ منظور کرلی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے پی پی کا بھی جدوجہد کا اعلان

 دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین نے ایک بار پھر وزیر اعظم کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’نوازشریف وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے مستعفیٰ ہوں اور اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کریں تاکہ ملک سے کرپشن کی لعنت کو ختم کیا جاسکے‘‘۔

انہوں نے احتساب نہ ہونے تک نوازشریف کو بطور وزیر اعظم ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’مسلم لیگ ن نوازشریف کی جگہ کسی اور کو وزیر اعظم کے عہدے پر نامزد کرے‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں