site
stats
صحت

خیبرپختونخواہ میں آن لائن ہیلتھ سینٹر ’’ای علاج‘‘ قائم

پشاور : خیبر پختونخواہ حکومت نے لوگوں کو صحت کی سہولیات مہیا کرنے کے لیے انقلابی قدم اُتھاتے ہوئے آن لائن ہیلتھ سینٹر ’’ای علاج‘‘ قائم کردیئے جہاں مریضوں کے لیے ماہرین معالجین علاج معالجے کے لیے انٹر نیٹ پر دستیاب ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخواہ حکومت نے ’’ای علاج‘‘ سینٹر کو ابتدائی طور پر ضلع مانسہرہ میں متعارف کرایا ہے جس کا بنیادی مقصد دور دراز کے علاقوں میں مقیم افراد کو ان کے نزدیکی علاقے پر ہی علاج کی سہولیات مہیا کرنا ہے تاکہ شہروں میں قائم اسپتال میں رش کم ہوسکے۔

خیبرپختونخواہ کے صوبائی وزیر شہرام خان ترکئی نے پروجیکٹس سے متعلق میڈیا کو بتاتے ہوئے کہا کہ ’’ای علاج‘‘ سینٹر میں ماہر امراض قلب، کان، ناک اور حلق،اور ماراض زچہ و بچہ صبح 9 سے دوپہر دو بجے تک طبی مشورے دینے فراہم کرنے کے لیے موجود ہوں گے۔

محکمہ صحت خیبر پختونخواہ کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ یہ سینٹر ایک تیز رفتار انٹرنیٹ سروس کے ذریعے پشاور میں بیٹھے ہوئے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز سے رابطے میں ہوگا جو انٹرنیٹ کے ذریعے مریض کی کیفیت جاننے کے بعد سینٹر میں موجود اسٹاف کو علاج سے متعلق ہدایت دیتے رہیں گے۔

صوبائی وزیر صحت کے پی کے شہرام خان نے بتایا کہ دور دراز علاقوں میں موجود ہر بنیادی صحت کے مراکز میں اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کی دستیابی بہت مشکل امر ہے چنانچہ مریضوں کی کثیر تعداد شہروں کی جانب رخ کرتے ہیں جس کی وجہ سے شہر کے مراکز صحت میں رش بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ای علاج‘‘ سینٹر میں آنے والے مریضوں کا رابطہ پشاور میں موجود ماہر معالجین سے بہ ذریعہ انٹرنیٹ کرایا جائے گا اور وہ مریضوں سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے گفتو شنید کر کے علاج تجویز کردیا کریں گے جب کہ اس میں معاونت فراہم کرنے کے لیے سینٹر میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف موجود ہوگا۔

صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ یہ سینٹر ابھی آزمائشی طور ہر قائم کیا گیا ہے اگر یہ تجربہ کامیاب رہا اور ایسے سینٹرز کا دائرہ کار دیگر ضلعوں اور دور دراز علاقوں تک پھیلایا جائے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top