site
stats
پاکستان

خیبرپختونخواہ میں جنگلات سے غیرقانونی تعمیرات ختم کرنے کا فیصلہ

ایبٹ آباد: سرکاری جنگلات پر بڑے پیمانے پرغیر قانونی تجاوزات کا انکشاف سامنے آنے کے بعد خیبر پختو

نخواہ نے سرکاری جنگلات کے وسیع رقبہ پر قابض قبضہ مافیا سے جنگلات واگزار کروانےکیلئے آپریشن کا
فیصلہ کرلیا۔

صوبائی حکومت نے سرکاری جنگلات کی حدود متعین کروانے کیلئے سروے آف پاکستان سےسروے
بھی شروع کروادیا، اہم سیاسی شخصیات، بیوروکریٹس اور مقامی آبادی کے ہزاروں کی تعداد میں گھروں اور
ہوٹلزمسمار کئے جانے کا امکان ہو چلا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گلیات، نتھیا گلی، ملاچھ، دروازہ، ایوبیہ اور دیگر علاقوں میں پچیس سو سے تین ہزار ایکٹر کے جنگلات کے رقبہ پر مقامی آبادی، اہم سیاسی شخصیات، بیو روکریٹس نے ان جنگلات کے رقبہ پر گزشتہ تیس سال سے غیر قانونی مکانات، ہوٹلز بنائے ہوئے ہیں۔

کے پی کے حکومت نے ان کے قبضہ سے جنگلات واگزار کروانے کیلئے حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی، جنگلات ایکٹ کے تحت ان جنگلات کی حدود بندی کیلئے بائونڈری پلرز بھی لگائے گئے تھے اس کے باوجود بااثر مافیا نے ان جنگلات کو نہیں بخشا اور یہاں پختہ تعمیرات کر ڈالی۔
ایبٹ آباد کے جنگلات گلیز فارسٹ کا ٹوٹل رقبہ38428 ایکڑ رقبہ پر مشتمل ہے، سرکاری جنگلات کی حدود متعین
کرنے کیلئے سروے آف پاکستان نے سروے شروع کر دیا جس کے سروے کیلئے 5.5 ملین روپے مختص کئے گے ہیں جبکہ جنگلات کی حدود پر باونڈری پلرز لگانے کے لئے ایک کروڑروپے کی کثیر رقم خرچ ہو گی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top