The news is by your side.

Advertisement

عالمی عدالت انصاف: کلبھوشن یادو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد

ہیگ : عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی۔

تفصیلات کے مطابق عالمی عدالت میں بھارت کو شکست ہوئی، ججز کے پینل نے پاکستان کے موقف کو درست قرار دے دیا۔  سزا ختم کرنے کی استدعا بھی مسترد کر دی گئی۔

کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ عالمی عدالت کے جج عبدالقوی احمد یوسف سنایا، انھوں نے کہا کہبھارت نے پاکستانی مطالبے پرکلبھوشن کااصل پاسپورٹ  اور کلبھوشن کی شہریت کے دستاویزات نہیں دکھائے۔

عالمی عدالت نے کلبھوشن کا حسین مبارک پٹیل کے نام سے بھارتی پاسپورٹ اصلی قرار دے دیا اور کہا کہ کلبھوشن یادیو اسی پاسپورٹ پر17 بار بھارت سے باہرگیااور واپس آیا۔

عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو بھارتی جاسوس ٹھہراتے ہوئے کہا کہ  کمانڈرکلبھوشن پاکستان کی تحویل میں ہی رہےگا، کیوں کہ کلبھوشن یادیو پرجاسو سی کا الزام ہے، البتہ ویاناکنونشن لاگو ہوگا، سزائے موت کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے گی،  یادیو تک قونصلر رسائی دی جائے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی آگ بھڑکا کر بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی جان لینے والے کلبھوشن کے کیس کا فیصلہ ہالینڈ کے دارالحکومت دی ہیگ میں سماعت کے بعد اکیس فروری کو محفوظ کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016ء کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا، کلبھوشن نے دہشت گردی میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا، باضابطہ مقدمہ چلایا گیا، 2017ء میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی، بعد ازاں سزائے موت کے خلاف کلبھوشن یادیو نے رحم کی اپیل کی بھی تھی لیکن بھارت معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے گیا تھا۔

پاکستان کی عدالت سے سزائے موت کے فیصلے کے بعد بھارت نے کلبھوشن یادیو کی بریت کے لئے عالمی عدالت درخواست دائر کر رکھی ہے۔

بھارت عالمی عدالتِ انصاف میں

بھارت نے دس مئی 2017 کو عالمی عدالتِ انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا اور سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کی درخواست دائر کی تھی۔

جس کے بعد عالمی عدالتِ انصاف نے کلبھوشن کیس میں اپنی رولنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی دے‘ اور امید ہے کہ پاکستان عالمی عدالت کا مکمل فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو سزا نہیں دی جائے گی۔

ستمبر 2017 میں بھارت نےعالمی عدالت میں کلبھوشن کیس پر تحریری جواب داخل کیا جبکہ پاکستان نے دسمبر 2017 کوجوابی دعوی میں بھارتی الزامات کومسترد کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: عالمی عدالت کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ 17 جولائی کو سنائے گی

قبل ازیں5مارچ 2019 کو وزیرِ اعظم عمران خان کو عالمی عدالتِ انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کی کام یاب پیروی کے سلسلے میں اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور نے وزیرِ اعظم کو بریفنگ دی تھی۔

کلبھوشن کی گرفتاری

آج سے تین سال قبل 3 مارچ2016 کو پاکستان کے حساس اداروں نے بلوچستان سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے جاسوس اور  ریکارڈز کے مطابق بھارتی نیوی کے حاضرسروس افسر کلبھوشن یادیو کوگرفتار کیا تھا۔

یاد رہے کہ رواں برس 10 اپریل کو پاکستان کی جاسوسی اور کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو فوجی عدالت سے سزائے موت سنادی گئی تھی۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے حاضر سروس افسرکلبھوشن یادیو کو یہ سزا پاکستان میں جاسوسی اور تخریب کاری کی کارروائیوں پرسنائی گئی تھی۔

واضح رہے کہ بھارتی میڈیا بھی کلبھوشن یادوو کے جاسوس ہونے کی تصدیق کرچکا ہے،کچھ عرصہ قبل بھارتی  ذرائع ابلاغ نے رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ’بھارتی جاسوس اپنی احمقانہ حرکتوں کی وجہ سے گرفتار ہوا‘۔

اس رپورٹ کے مطابق کلبھوشن نے1987میں بھارتی بحریہ میں شمولیت اختیارکی تھی، تیرہ سال کی سروس کے بعد ترقی پا کر کمانڈر بن گیا،  بھارت پاکستان سے خفیہ جنگ میں مصروف ہے۔

اس سے قبل بھی بھارتی اخبار نے بھارتی دہشت گرد کلبھوشن سے متعلق اندرونی کہانی بیان کی تھی، جس کے مطابق کلبھوشن را کا ایجنٹ اور جاسوس کے طور پر کام کرتا رہا، کلبھوشن کو تعینات کرنے پر را کے 2افسران کو تحفظات تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں