The news is by your side.

Advertisement

غیرملکیوں کی کویت میں داخلے کی راہ ہموار

کویت سٹی : کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کی تیزی سے پھیلاؤ پر قابو پانے کیلئے کویتی حکومت مؤثر اقدامات کررہی ہے جس کے بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں۔

اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کویت واپسی کے لئے احتیاطی تدابیر میں نرمی کے پیش نظر اب شہری اور غیرملکی سفر کرنے میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔

کویتی میڈیا کے مطابق بیرون ملک سے کویت واپس آنے والوں کے لیے احتیاطی تدابیر میں نرمی اور قرنطینہ ختم کرنے کے لیے پہنچنے پر پی سی آر ٹیسٹ کی دستیابی نے شہریوں اور رہائشیوں کو دوبارہ اپنے سفری کرنے کے ارادوں میں واپس آنے کی ترغیب دی جس سے تحفظات کے لیے ٹرن آؤٹ کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

اس حوالے سے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ایک رکن اور فیڈریشن آف ٹورازم اینڈ ٹریول آفسز میں میڈیا کمیٹی کے سربراہ حسین السلیطین کا کہنا ہے کہ کابینہ کے گزشتہ پیر کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ویکسین شدہ افراد پر قرنطینہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایسی صورت میں جب کویت آمد کے فوراً بعد پی سی آر کا معائنہ کیا جاتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ وائرس سے پاک ہیں شہریوں اور رہائشیوں کے سفر کے لیے ٹرن آؤٹ کی شرح10 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔

السلیطین نے مزید کہا کہ اور بھی عوامل ہیں جنہوں نے حالیہ دنوں میں اس شعبے کے کام کو متحرک کیا اور بہت سے شہریوں اور رہائشیوں کو سفر کرنے پر آمادہ کیا جن میں بعض یورپی ممالک کی جانب سے مستقبل قریب میں معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کے لیے اقدامات کرنے کا عزم اور اس سے نمٹنے کے لیے ایک مقامی وائرس کے طور پر کورونا وائرس کے میوٹینٹ جن سے "انفلوئنزا” کے طور پر نمٹا جا سکتا ہے۔

مسافروں اور ان ممالک اور دنیا بھر کے دیگر مقامات پر جانے اور آنے والوں کو ذہنی سکون ملا ہے۔ السلیطین نے اشارہ کیا کہ شہریوں اور رہائشیوں کی طرف سے سفر کی مانگ میں سب سے زیادہ مطلوب مقامات کی فہرست میں عمرہ کے سفر اور مکہ المکرمہ کے ساتھ ساتھ ترکی اور دبئی جیسے کچھ دیگر مقامات کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

توقع ہے کہ آنے والے عرصے کے دوران مختلف یورپی مقامات پر سفر کی بہت زیادہ مانگ دیکھنے کو ملے گی کیونکہ اس رجحان کی روشنی میں ان میں سے بہت سے لوگ اومیکرون کو وبائی بیماری کے بجائے ایک مقامی وائرس سمجھتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں