The news is by your side.

کرونا وبا: کویت میں ‘ڈیلیوری ورکرز’ کی چاندی ہوگئی

کویت سٹی: عالمی وبا کرونا وائرس کے باعث کویت میں ریستوران اور ہوٹل کے شعبے میں خدمات سرانجام دینے والے کارکنان کی شدید کمی ہوگئی ہے۔

روزنامہ القبس کی رپورٹ کے مطابق ریستوران اور ہوٹل کے شعبے کو بیرون ملک سے بھرتیوں کی مسلسل بندش کے باعث خصوصی کارکنوں کی تعداد میں شدید کمی کا سامنا ہے۔

حکومتی رپورٹ کے مطابق مارچ دو ہزار بیس اور مارچ 2021 کے دوران فوڈ سروسز کے کارکنوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے اس عرصے میں 8،641 ریستوران کے کارکن مستقل طور پر کویت چھوڑ کر اپنے ممالک واپس لوٹ گئے۔

ریسٹورنٹس فیڈریشن کے سربراہ فہد العربش نے روزنامہ القبس کو بتایا کہ ریستوران کے مالکان غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کی مسلسل بندش اور "باورچی ، بیکرز ، مٹھائیوں جیسے تجربے کے حامل خصوصی کارکنوں کی کمی کی روشنی میں کام کرنے سے قاصر ہیں۔

ڈیلوری کمپنیوں میں سے ایک مالک جابر الشریف نے بتایا کہ بیرون ملک سے کارکنوں کی بھرتی کی مسلسل بندش اور لیبر مارکیٹ میں ان کی کمی نے تنخواہوں میں اضافے اور کمپنیوں کے درمیان ان کی منتقلی کی وجہ سے انہیں مالی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ العربش نے تسلیم کیا کہ مقامی مارکیٹ میں مزدور ریستورانوں میں کام کرنے میں مہارت نہیں رکھتے اور انہیں فوڈ انڈسٹری میں شامل ہونے کی تربیت دینا آسان نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کویت میں کمپنیوں پر نئی پابندی عائد

انہوں نے نشاندہی کی کہ مارکیٹ میں مزدوروں کی کمی کے نتیجے میں کیٹرنگ سروسز کے شعبے میں تنخواہ دوگنا ہو چکی، ریستوران میں صفائی کرنے والے کو پہلے 150 دینار ملتے تھے جبکہ اب اس کی تنخواہ 300 دینار تک پہنچ گئی ہے، اسی طرح ریستوران میں مخصوص شعبوں میں کام کرنے والوں کی تنخواہ ایک ہزار دینار سے تجاوز کر چکی ہے جوکہ ماضی میں 400 دینار تھی۔

ایک اور ریستوران مالک جبر الشریف نے نشاندہی کی کہ ڈیلیوری ورکرز کی کم سے کم تنخواہ 350 دینار تک پہنچ گئی ہے اور اس پیشے میں کام کرنا دوسرے شعبوں میں کام کرنے والوں کے لیے پرکشش بن گیا ہے جن کی تنخواہیں پہلے کم تھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں