The news is by your side.

لندن : وزیرِ خزانہ کی برطرفی کے بعد برطانوی معیشت کو بڑا دھچکا

لندن : برطانیہ کے نئے وزیر خزانہ کوازی کوارٹینگ اپنی تقرری کے 40 روز میں ہی عہدے سے برطرف کردیے گئے، برطرف کوازی جو برطانوی وزیراعظم کے قریبی دوست بھی ہیں کی برطرفی کے بعد پاؤنڈ کی قدر میں کمی آگئی۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے وزیرِ خزانہ کوازی کوارٹینگ نے تصدیق کی ہے کہ انہیں ان کی مرضی کے خلاف وزیرِاعظم لزٹرس نے اپنی کابینہ سے برطرف کردیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک تصدیقی پیغام میں انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ عہدہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جب یہ خبر سامنے آئی کہ اب کوازی چانسلر یعنی وزیرِ خزانہ نہیں رہے تو محض آدھے گھنٹے میں پاؤنڈ کی قدر میں تیزی سے کمی سامنے آئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ برطانوی وزیرِاعظم لز ٹرس کے بہت اہم اور کلیدی کابینہ کے رکن اور اطلاعات کے مطابق گرینچ میں ان کے پڑوسی ہیں جو چند ہفتوں میں ہی ان کی ٹیم سے باہر ہوگئے ہیں۔

بی بی سی کے سیاسی امور کے ایڈیٹر کرس مورس کے تجزیے کے مطابق یہ واقعی بہت حیران کن خبر ہے کیونکہ وزیر اعظم لزٹرس اور کوازی کوارٹینگ پرانے دوست بھی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ دونوں کنزرویٹو پارٹی کے ایک ہی ونگ سے ہیں، انہوں نے ملکی پالیسی کے حوالے سے جو کوششیں کی ہے وہ سیاست پر ان کے نقطہ نظر کا مرکز ہے مگر اب وزیرخزانہ 40دن کے کم عرصے میں ہی سارے منظر نامے سے باہر ہوگئے ہیں۔

ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق برطانیہ کی وزیراعظم لز ٹرس پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے چھ بجے وزیراعظم آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کریں گی۔

وزیراعظم لزٹرس کی ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ہونے والی نیوز کانفرنس میں مالی عدم استحکام پر بات ہونے کے امکانات ہیں مگر اس وقت برطانیہ کے پاس خزانے کا چانسلر نہیں ہے۔

وزیر اعظم لزٹرس اس وقت تک صحافیوں کے سوالات کا سامنا نہیں کرنا چاہیں گی جب تک وہ اس بات کا جواب نہ دے دیں کہ وزارت خزانہ کون چلاتا ہے۔

پارٹی میں کچھ لوگ یہ بحث کر رہے ہیں کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اسے ایک نئے چانسلر میں جس چیز کی تلاش کرنی چاہیے وہ ان کی ساکھ ہے، کنزرویٹو بینچوں پر دو ارکان رشی سونک اور ساجد جاوید ہیں جو وزیرِ خزانہ کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔

کوازی کوارٹینگ کے سیاسی کیرئیر کا سرسری جائزہ:

لز ٹرس کی طرح کلاس آف 2010 کے ایک رکن سپیلتھورن سرے سے رکن منتخب ہوئے، جب اُس سال عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نے اقتدار حاصل کیا۔

کوازی کوارٹینگ نے سال 2016 میں یورپی یونین سے نکلنے کی تحریک کی حمایت کی۔ کوازی بورس جانسن کی حکومت میں بزنس سیکرٹری بنے، جسے بورس جانسن کی حمایت کے بدلے ملنے والی نوازشات کے طور پر دیکھا گیا۔

انہوں نے لزٹرس کی سال2022 کی لیڈر شپ مہم کی حمایت کی اور وزیر خزانہ بنائے جانے سے پہلے انہیں وزیر اعظم کی سیاسی روح کے طور پر بیان کیا گیا۔

23ستمبر کو ایک منی بجٹ پیش کیا جس میں 45 بلین پاؤنڈز ٹیکس میں کٹوتیوں کا وعدہ کیا گیا، قرضوں کے ذریعے  فنڈز فراہم کیے گئے، جس کے بعد مارکیٹ میں افراتفری اور بینک آف انگلینڈ کی مداخلت عمل میں آئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں