شہزادی ڈیانا ۔ زندگی کے لیے ترستی ہوئی موت کی آغوش میں جا پہنچی -
The news is by your side.

Advertisement

شہزادی ڈیانا ۔ زندگی کے لیے ترستی ہوئی موت کی آغوش میں جا پہنچی

لندن: آنجہانی شہزادی لیڈی ڈیانا کو اس دنیا سے گزرے آج 21 برس ہوگئے۔ دنیا بھر کے افراد کے دلوں کی دھڑکن لیڈی ڈیانا صرف 36 سال کی عمر میں ایک کار ایکسیڈنٹ میں ہلاک ہوگئی تھی۔

شہزادی ڈیانا یکم جولائی 1961 کو برطانوی گاؤں سینڈرینگھم میں پیدا ہوئی۔ ڈیانا بلاواسطہ طور پر برطانیہ کے شاہی خاندان کا ہی حصہ تھی۔ 1977 میں لیڈی ڈیانا کی شادی ولی عہد شہزادہ چارلس سے ہوئی۔

شادی سے قبل ڈیانا ایک اسکول میں پڑھاتی بھی تھی۔

لیڈی ڈیانا اور پرنس چارلس کے ازدواجی تعلقات میں کچھ عرصہ بعد ہی سرد مہری آگئی جس کے بعد لیڈی ڈیانا نے اپنے آپ کو فلاحی کاموں کے لیے وقف کردیا۔ 1992 میں دونوں کی علیحدگی ہوگئی۔

طلاق کے بعد لیڈی ڈیانا نے اپنی زندگی اسی گھر میں گزاری جہاں اس نے پرنس چارلس کے ساتھ شادی کا پہلا سال گزارا تھا۔ یہ گھر ڈیانا کی موت تک اس کا ٹھکانہ رہا۔

مزید پڑھیں: ڈیانا کے معصوم بیٹے کا ماں سے جذباتی وعدہ

ڈیانا ایک پاکستانی نژاد برطانوی ڈاکٹر حسنات خان کے تیر نظر کا شکار بھی ہوئی لیکن یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔

سنہ 1996 میں ڈیانا موجودہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کی دعوت پر پاکستان آئی جہاں اس نے شوکت خانم کے لیے فنڈ جمع کرنے والی فلاحی تقریب میں شرکت کی۔

1

ڈیانا کا تعلق مشہور اسٹور چین ’ہیرڈز‘ کے مالک دودی الفائد سے بھی رہا۔ 31 اگست 1997 کو لیڈی ڈیانا اور الفائد پیرس میں کار کے سفر کے دوران جان لیوا حادثے کا شکار ہوگئے اور کروڑوں دلوں کی دھڑکن لیڈی ڈیانا اپنے چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ گئی۔

6

لیڈی ڈیانا حقیقی معنوں میں ایک شہزادی تھی۔ اس نے ساری زندگی ایک وقار اور تمکنت کے ساتھ گزاری۔ اس کے اندر ایک عام لڑکی تھی جو فطرت اور محبت سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی لیکن بدقسمتی سے وہ شاہی محل کی اونچی دیواروں میں قید تھی۔

اس کے جاننے والوں کے مطابق شاہی محل میں گزارا جانے والا زندگی کا حصہ اس کی زندگی کا تکلیف دہ حصہ تھا۔

آئیے لیڈی ڈیانا کے کچھ خیالات جانتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی اس کے لیے کیا تھی اور وہ اسے کیسے گزارنا چاہتی تھی۔

وہی کرو جو تمہارا دل چاہتا ہے۔

مجھے صرف ڈیانا کے نام سے بلاؤ، شہزادی ڈیانا کے نام سے نہیں۔

محبت کے بغیر زندگی گزارنا دنیا کی سب سے تکلیف دہ بیماری ہے۔

میں اصولوں پر نہیں چلتی، میں دماغ کی نہیں، دل کی سنتی ہوں۔

اگر آپ اس شخص کو ڈھونڈ لیں جس سے آپ محبت کرتے ہیں، تو اسے کبھی نہ جانے دیں۔

ڈیانا کے شوہر شہزادہ چارلس کے تعلقات سابقہ محبوبہ کمیلا پارکر سے بھی رہے۔ یہ تعلق ڈیانا کی زندگی میں بھی برقرار رہا۔ اپنی شادی کے بارے میں ڈیانا کہتی تھی، ’اس شادی میں 2 نہیں 3 افراد آپس میں جڑے تھے، سو یہ تھوڑی سی پرہجوم شادی تھی‘۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک بار اس نے کہا تھا، ’میں اس ملک کی ملکہ بننے کے بجائے دلوں کی ملکہ بننا پسند کروں گی‘۔

ڈیانا نے اپنا کہا پورا کیا، وہ برطانیہ کی ملکہ تو نہ بن سکی لیکن دلوں کی ملکہ ضرور بن گئی اور اس کی موت کے کئی سال بعد آج بھی اس کے چاہنے والے اسے یاد کرتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں