لاہور دھماکا: جماعت الاحرار کی ویب سائٹ بھارت سے آپریٹ ہوئی،انکشاف Lahore Blast
The news is by your side.

Advertisement

جماعت الاحرار کی ویب سائٹ بھارت سے آپریٹ ہونے کا انکشاف

اسلام آباد: لاہور دھماکے میں ملوث کالعدم حزب الاحرار کی ویب سائٹ سے متعلق معلومات حاصل ہوگئیں، ویب سائٹ بھارت سے آپریٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے وزارت داخلہ کو رپورٹ موصول ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کالعدم حزب الاحرار کی ویب سائٹ کا پتا لگا لیا ہے، یہ ویب سائٹ بھارت سے آپریٹ ہوئی، ویب سائٹ کا آئی پی ایڈریس چنئی شہر کا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نے بھارتی ہائی کمشنر کو ویب سائٹ آپریٹنگ کے حوالے سے ثبوت فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے تاہم ایف آئی اے سائبر کرائم کی یہ رپورٹ وزیراعظم کو دی جائےگی، ان کی مشاورت کے بعد بھارت سے یہ معاملہ اٹھایا جائے گا۔

یاد رہے کہ حزب الاحرار نے لاہور چیئرنگ کراس خودکش حملے کے چند گھنٹوں بعد ویب سائٹ پر بیان دے کر خونریزی کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

لاہور دھماکے کے بعد سے سب تک پاکستان دھماکوں کی زد میں ہے، لاہور دھماکے میں 15 افراد جاں بحق ہوئے، اس دھماکے سے چند روز قبل نیکٹا نے لاہور پر حملے کا خدشہ ظاہر کیا تھا تاہم اس کے باوجود حملہ آور کامیاب ہوگئے۔

لاہور دھماکا: خودکش بمبار کو افغان بارڈر سے لایا، ملزم کا ویڈیو بیان

دھماکے کا خود کش حملہ آور نصر اللہ افغانستان کے شہر کنڑکا رہائشی تھا جسے طور خم بارڈر سے یہاں تک لانے والا باجوڑ کا رہائشی انوار الحق تھا جو اب پولیس کی حراست میں ہے اور اس کا ویڈیو اعترافی بیان جاری کیا جاچکا ہے۔

ملزم کا بیان تھا کہ اسے جماعت الاحرار کی افغانستان میں موجود قیادت نے پولیس پر حملوں کا حکم دیا تھا، اسے لاہور پنجاب اسمبلی کے سامنے ڈی آئی جی میبن اور دیگر پولیس نظر آئی تو وہ خودکش حملہ آور کو فوری طور پر یہاں لے آیا۔

لاہور حملہ: خودکش حملہ آور کو لانے والا لنڈا بازار میں‌ مقیم تھا

حملے سے قبل انوار الحق لاہور کے لنڈا بازار میں مقیم تھا، دو روز قبل ملزم کا تیس روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا گیا ہے جبکہ باجوڑ میں رہائش پذیر اس کے دو بھائیوں اور والد کو گرفتار کرلیا گیا ہے تاہم گوجرانوالہ کے لنڈا بازار میں موجود اس کا بہنوئی واقعے کے بعد سے غائب ہے جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

لاہور حملہ: جاں بحق افراد کی تعداد 15 ہوگئی

اب تک کی اطلاعات میں حملہ آور کے آنے اور حملے کے تمام تر احکامات افغانستان سے موصول ہونے کی معلومات اور شواہد ہیں تاہم لاہور حملے میں یہ پہلا انکشاف ہوا ہے کہ واقعے کی ذمہ داری بھارت سے قبول کی گئی۔

لاہور حملے کے تین سہولت کاروں کی ضمانت منسوخ

دریں اثنا لاہور حملے کے دہشت گردوں کے تین سہولت کاروں کی درخواست ضمانت خارج کردی گئی، تینوں ملزمان ڈی سی آفس اسلحہ برانچ کے ملازمین ہیں۔

سرکاری وکیل کے مطابق تینوں سہولت کاروں سے جعلی لائسنس اور لٹریچر برآمد ہوا ہے اور ان تینوں ملزمان کا  کالعدم تنظیم داعش سےثابت ہوچکا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں