The news is by your side.

Advertisement

لاہور: احتجاجی طلبہ کے خلاف مقدمہ درج

لاہور: لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طلبا کو احتجاج کرنا مہنگا پڑگیا، توڑپھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے باعث مقدمات درج کرلئے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مقدمہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تھانہ نواب ٹاؤن میں سیکیورٹی افسر کی مدعیت میں درج کیا گیا، مقدمے میں طلبا گروپ کے سربراہ زبیر صدیقی سمیت 500 نامعلوم ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔

مقدمے میں یونیورسٹی انتظامیہ نے موقف اپنایا کہ طلبا کو دھرنا دینے سےمنع کیا گیاجس پر وہ حملہ آور ہوئے، اس دوران ملزمان نے یونیورسٹی میں جلاو گھیراؤ کےساتھ توڑ پھوڑ کی، ملزمان نے سیکیورٹی گارڈز کو زخمی کیا اور املاک کو بھی نقصان پہنچایا۔

رہنما احتجاجی طالب علم محمدزبیر صدیقی نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی والے صرف پیسےبنانےکیلئےفزیکل امتحان کراناچاہتےہیں، ہم نےیونیورسٹی سےبات کرنےکی کوشش کی لیکن کسی نے ہماری بات نہ سنی۔Imageزبیرصدیقی کا کہنا تھا کہ ہمار ااحتجاج پرامن تھا،ہ م میں سےکوئی طالبعلم مسلح نہیں تھا، سب نہتےتھے، ہم پرامن تھے مگر یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سےتشدد کیا گیا۔

واضح رہے گذشتہ روز لاہور میں مشتعل طلبا نے یونیورسٹی کے دروازے کو آگ لگائی تھی، احتجاجی طلبا پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں دو طلبا زخمی جبکہ متعدد طلبا کو گرفتار کرلیا گیا تھا، طلبا کا مطالبہ تھا کہ پڑھائی کی طرح امتحان بھی آن لائن لیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور کی یونیورسٹی میدان جنگ بن گئی، مظاہرین نے دروازے کو آگ لگادی

دوسری جانب وزیر تعلیم شفقت محمود واضح کرچکے ہیں کہ آن لائن امتحانات کے حوالے سے فیصلہ یونیورسٹیز نے کرنا ہے، وی سیز دیکھیں اس سال مخصوص حالات میں ممکن ہے تو آن لائن امتحانات کرالیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں