The news is by your side.

Advertisement

لاہور ہائی کورٹ نے سیکرٹری پنجاب اسمبلی کو گرفتارکرنے سے روک دیا

لاہور : لاہور ہائی کورٹ نے سیکرٹری پنجاب اسمبلی کوگرفتارکرنے سے روکتے ہوئے حکم دیا سیکرٹری کو پنجاب اسمبلی جانے دیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ آمد پر سیکرٹری پنجاب اسمبلی کی گرفتاری کا خدشہ ہوگیا ، جس کے باعث سیکرٹری پنجاب اسمبلی تھانہ پرانی انارکلی کے ایس ایچ او اہلکاروں کے ساتھ جی پی او چوک پہنچ گئے۔

اس دوران سیکرٹری پنجاب اسمبلی کے وکیل اور ایس ایچ او کی ہائیکورٹ گیٹ پر تلخ کلامی ہوئی ۔

وکیل عامر سعید راں نے کہا کہ سیکرٹری اسمبلی پیشی کے لئے آئے پولیس کیوں اردگرد گھوم رہی ہے ، غیرقانونی گرفتارکرنےکی کوشش کی توعدالت کوآگاہ کیاجائے گا۔

گرفتاری کے خدشے کے باعث سیکرٹری اسمبلی وکلا کے ہمراہ واپس ہائی کورٹ آگئے اور سیکرٹری اسمبلی نے مدد کیلئے پنجاب اسمبلی کی سیکیورٹی طلب کرلی اور موجودہ صورتحال پر وکلاء سے قانونی مشاورت کی۔

ذرائع نے کہا کہ سیکرٹری پنجاب اسمبلی کی نظربندی کا حکم جاری ہوچکاہے، نظربندی کےحکم پرعمل درآمدکےلئےپولیس ہائیکورٹ کے باہر پہنچی ، نظربندی کے احکامات محکمہ داخلہ پنجاب نے جاری کئے۔

سیکرٹری اسمبلی ہائی کورٹ میں رہتے ہوئے نظربندی کوآج ہی چیلنج کریں گے۔

سیکرٹری پنجاب اسمبلی کی ممکنہ گرفتاری کے معاملے پر وکیل نے عدالت کو پولیس کی کاروائی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ڈپٹی سیکرٹری کوآرڈی نیشن کو عدالت آتےگرفتار کیا گیا، سیکرٹری پنجاب اسمبلی کوپیشی کےبعد پولیس گرفتار کرنا چاہتی ہے۔

وکیل سیکرٹری اسمبلی کا کہنا تھا کہ پولیس ہائی کورٹ کےتینوں دروازوں پر تعینات ہے، جس پرجسٹس شجاعت علی خان نے کہا پولیس انہیں کیسے گرفتار کرسکتی ہے ، عدالتی سماعت کے بعد معاملے کودیکھ لیتے ہیں۔

وکیل نے بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ نےسیکرٹری پنجاب اسمبلی کوگرفتارکرنےسےروک دیا اور آئی جی کو سیکرٹری اسمبلی کو آزادانہ موومنٹ کی ہدایت کی۔

عامرسعیدراں کا کہنا تھا کہ عدالت نےحکم دیا ہے سیکرٹری کو پنجاب اسمبلی جانے دیا جائے اور رجسٹرارکوحکم دیاہےعدالتی حکم آئی جی پنجاب کوبھجوایا جائے۔

وکیل نے مزید کہا کہ یہ سب اسمبلی کااجلاس اور تحریک عدم اعتمادکورکوانےکیلئےکیاجارہاہے، پنجاب پولیس حمزہ شہبازکےایماپرسب کر رہی ہے۔

یاد رہے اس سے قبل پولیس ڈپٹی سیکرٹری کوآرڈینیشن پنجاب اسمبلی کو گرفتار کرچکی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں