The news is by your side.

Advertisement

بابری مسجد فیصلے پر جمعیت علمائے ہند کا رد عمل بھی سامنے آگیا

نئی دہلی: جمعیت علمائے ہند نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ بابری مسجد کے متبادل کے طور پر نہ زمین قبول ہے اور نہ ہی رقم لیں گے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے بابری مسجد سے متعلق متعصبانہ فیصلے کو جمعیت علمائے ہند نے بھی مسترد کردیا اور واضح مؤقف اختیار کیا کہ متبادل کے طور پر مسجد کی تعمیر کے لیے 5ایکڑ زمین قبول نہیں کریں گے۔

صدر جمعیت علمائے ہند ارشدمدنی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر ریویوپٹیشن دائر کرسکتے ہیں، پانچ رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قانونی مشاورت کرے گی۔ جمعیت علمائے ہند بابری مسجد کیس کے اہم فریقوں میں شامل تھی۔

بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد کی جگہ مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دینے کا حکم ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی متنازع زمین ہندوؤں کو دینے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا بھارتی حکومت کی زیرنگرانی بابری مسجد کی جگہ مندر بنے گا اور مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے۔

فیصلے میں سنی اور شیعہ وقف بورڈز کی درخواستیں مسترد کردی گئیں تھیں اور کہا گیا تھا کہ تاریخی شواہد کے مطابق ایودھیارام کی جنم بھومی ہے، بابری مسجد کا فیصلہ قانونی شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

بابری مسجد کا متعصبانہ فیصلہ، پاکستان کی او آئی سی کے سفیروں کو بریفنگ

بعد ازاں پاکستان نے تاریخی بابری مسجد کے فیصلے پرشدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک بار پھرانصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں