The news is by your side.

’ارشد شریف کیس، ایگزیکٹو نے نیا کھیل شروع کر دیا ہے‘

ماہر قانون ابوذر سلمان نے ارشد شریف کیس میں پولیس کی مدعیت میں ایف آئی آر کے اندراج پر کہا ہے کہ ایگزیکٹو نے نیا کھیل شروع کردیا ہے۔

ابوذر سلمان نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کیس کا نوٹس لیا جو اچھی بات ہے۔ ایف آئی آر درج کرانا ارشد شریف کی فیملی کا حق ہے۔ پولیس نے اپنی مدعیت میں ایف آئی آر کاٹ کر سپریم کورٹ کے حکم کا مذاق اڑایا ہے۔

ماہر قانون کا کہنا تھا کہ عدالت نوٹس لیتی ہے تو پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج ہو جاتا ہے۔ اس سے پہلے پولیس سو رہی تھی اور اب پھرتی دکھا رہی ہے۔ ارشد شریف شہید کی فیملی درخواست تیار کر رہی تھی اور پولیس نے پہلے ہی مقدمہ درج کر لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ عجیب طریقہ ہے مدعی کو چھوڑ کر اسٹیٹ خود مدعی بن جاتی ہے۔ یہ ٹیکنیکل ناک آؤٹ کا نیا طریقہ ہے کہ جو شخص متاثر ہوتا ہے وہ مدعی ہی نہیں ہوتا۔ لگتا ہے کہ ایگزیکٹو نے نیا کھیل شروع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پولیس کی پھرتیاں، ارشد شریف کی والدہ کی مدعیت کے بغیر مقدمہ درج

ابوذر سلمان نے مزید کہا کہ عام آدمی مر جاتا ہے تو پولیس اس کیس میں مدعی نہیں بنتی لیکن ارشد شریف کیس جس میں سپریم کورٹ کے حکم سے قبل ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی تھی وہاں پولیس خود ہی مدعی بن گئی اور شہید کی فیملی کو خاطر میں لائے بغیر ہی مقدمہ درج کر لیا گیا۔ سمجھ نہیں آرہی پولیس کیا بن چکی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں