The news is by your side.

Advertisement

پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی میں ’ڈیڈ لاک‘ پیدا ہوگیا، فروغ نسیم

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی میں ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی سے متعلق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے مطابق جب تک الزام ثابت نہ ہو نیب گرفتاری نہ کرے، اپوزیشن کہتی ہے نیب قانون کا اطلاق 16 نومبر 1999 سے ہونا چاہئے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ اپوزیشن کی تجویز ہے کہ 5 سال کے اندر جرم کیا گیا ہو تو اسی پر کیس ہونا چاہئے، اپوزیشن ایف اے ٹی ایف قوانین کو پس پشت ڈال رہی ہے، اپوزیشن کے مطالبات حکومت کے اینٹی کرپشن بیانیے کے خلاف ہیں۔

مزید پڑھیں: ‘پاکستان ایف اے ٹی ایف کے27 میں سے 14 پہلوؤں پر عملدر آمدکر چکا’

وزیر قانون نے کہا کہ حکومت ایف اے ٹی ایف سے متعلق قوانین ایوان میں لائے گی، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے تین بل حکومت نے چھ اگست سے پہلے بنانے ہیں، پاکستان بل نہیں بنائے گا تو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نہیں نکلے گا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے بل کی منظوری کے ساتھ اپوزیششن نیب کا بل بھی منظور کروانا چاہتی ہے۔

وفاقی وزیر اطالاعات کا کہنا تھا کہ ’قومی احتساب بیورو (نیب) کا ادارہ پی ٹی آئی نے تو نہیں بنایاگیا،مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے اس ادارے کا سیاسی استعمال کیا اور ایک دوسرے پر مقدمات بنوائے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں