وکلاء کنونشن سے خطاب‘ نوازشریف کی ایک بارپھرعدلیہ پرتنقید -
The news is by your side.

Advertisement

وکلاء کنونشن سے خطاب‘ نوازشریف کی ایک بارپھرعدلیہ پرتنقید

لاہور: سابق وزیراعظم نواز شریف عدلیہ پر تنقید سے باز نہ آئے‘ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سوالات کی صورت میں عدلیہ کے فیصلے کو نشانہ بنایا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے آج ایوانِ اقبال میں منعقدہ مسلم لیگی وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کیلئےوکلانےجاندارتحریک چلائی،سختیاں برداشت کیں‘ آج بھی وکلاپربھاری ذمہ داری عائدہوتی ہے۔

انہوں نے وکلا کنونش میں شریک وکیلوں کے سامنے متعدد سوال رکھے اور ان سوالات کی آڑ میں ایک بار پھر عدلیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے پر فوراً عملد رآمد کرتے ہوئے عہدہ چھوڑدیا۔فیصلےپرعملدرآمدکےباوجودانہیں تسلیم نہیں کیاجاسکتا ‘ عدلیہ کی تاریخ میں ایسےفیصلےموجودہیں جن پرعمل کیاگیامگرتسلیم نہیں کیا گیا۔

نواز شریف کاوکلا کنونشن سے خطاب، ہائی کورٹ بار کا اعلان لاتعلقی*

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ قانون دانوں کےاتنےبڑےاجتماع میں شرکت سےخوشی ہوئی ہے‘ جمہوریت کےاستحکام کےلیےوکلاءکاکردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔وکلاپاکستان میں جمہوریت کےاستحکام اورآئین کی حکمرانی کیلئےکرداراداکریں۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء پانامالیکس کےمعاملےسےبخوبی اورپوری طرح واقف ہیں‘ آپ جانتےہیں پانامالیکس کی فہرست میں میرانام شامل نہیں۔ پانامالیکس کامعاملہ سامنےآتےہی میں نےشفاف تحقیقات کااعلان کیا، اپوزیشن کےمطالبےپرپارلیمنٹری کمیٹی قائم کی مگرکوئی نتیجہ نہیں نکلا، اپوزیشن چاہتی تھی معاملہ کمیٹی کےبجائےگلیوں میں گھسیٹاجائے۔

نوازشریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ منتخب رہنماجیلوں میں سڑتےاورملک بدر ہوتے رہےجب کہ آمر حکومت کرکے سکون سےبیرون ملک جاتے رہے ایسے سوراخوں کوبندکرناہو گاجہاں سے جمہوریت کاڈساجاتاہے۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف وکلاء کنونشن میں شرکت سابق وزیراعظم نواز شریف آج لاہور میں منعقد ہونے والے وکلا کنونشن سے خطاب کرنے کے لیے ایوانِ اقبال پہنچے ہیں‘ ان کے ہمراہ گورنرپنجاب رفیق رجوانہ،پرویزرشید اور وفاقی وزیرِ قانون زاہدحامد بھی موجود تھے ۔

سپریم کورٹ اورہائیکورٹ بارنےوکلاکنونشن سےلاتعلقی کااعلان کردیاہے۔ایڈوکیٹ عامر سعید کا کہنا ہے کہ نااہل وزیراعظم کولیگی وکلا نے خطاب کےلیےبلایاہے۔

نوازشریف‘ وزیراعظم اور16 اراکینِ اسمبلی کے بیانات نشرکرنے پرپابندی*

 یاد رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف‘ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور مسلم لیگ کے دیگر 16 اراکینِ اسمبلی کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے پیمرا سے جواب طلب کرلیا تھا۔

نوا زشریف کو 28 جولائی کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما پیپرز کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نا اہل قرارد یا تھا جس کے بعد وہ اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہے تھے۔

اسلام آباد سے لاہور سفر کرتے ہوئے نواز شریف نے نا اہلی کے فیصلے پر کئی بار سخت تنقید کی تھی اور ججز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں