The news is by your side.

Advertisement

ماحولیاتی بہتری کے لیے صدر ٹرمپ کو تجاویز

واشنگٹن: آسکر ایوارڈ یافتہ ہالی ووڈ اداکار اور اقوام متحدہ کے خیر سگالی سفیر برائے ماحولیاتی تبدیلی لیونارڈو ڈی کیپریو نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی جس میں ماحول سے متعلق مختلف شعبہ جات اور اقدامات زیر بحث آئے۔

لیونارڈو ڈی کیپریو فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو ٹیری ٹمنن کے مطابق لیو نے امریکی صدر ٹرمپ، ان کی بیٹی ایوانکا اور ان کے عملے کے دیگر ارکان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں لیو نے قابل تجدید توانائی کے کئی منصوبے پیش کیے جن کے ذریعہ نئی نوکریاں پیدا کر کے امریکی معیشت کو سہارا دیا جاسکتا ہے۔

فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق لیو نے امریکی صدر کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ کس طرح تجارتی و رہائشی تعمیراتی منصوبے شروع کیے جائیں جو قابل تجدید توانائی پر مشتمل اور ماحول دوست ہوں، ان سے لاکھوں بے روزگار امریکیوں کو روزگار فراہم کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: دنیا کے ماحول دوست ممالک کون سے ہیں؟

واضح رہے کہ لیونارڈو ڈی کیپریو کو ملاقات میں خاص طور پر قابل تجدید یعنی ماحول دوست توانائی کے ذرائع کے بارے میں گفتگو کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ امریکا کی دم توڑتی کوئلے کی صنعت کو دوبارہ بحال کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں، یعنی عنقریب امریکا میں بیشتر توانائی منصوبے کوئلے سے چلائے جائیں گے جو ماحولیاتی آلودگی میں بدترین اضافہ کریں گے۔

گو کہ لیو نے امریکی صدارتی انتخاب میں شکست خوردہ امیدوار ہیلری کلنٹن کی حمایت کی تھی تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد اب وہ ان کے ساتھ مل کر ماحول کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔

لیو نے صدر ٹرمپ کو اپنی ڈاکیو منٹری بی فور دی فلڈ بھی پیش کی جو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے خطرات سے آگاہ کرتی ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کی ماحول دشمنی اور لاعلمی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران وہ بارہا کلائمٹ چینج کو ایک وہم اور مضحکہ خیز چیز قرار دے چکے ہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ ٹرمپ کا انتخابی منشور ماحول دشمن اقدامات سے بھرا پڑا ہے۔ امریکا میں کوئلے کی صنعت کی بحالی کے علاوہ صدر ٹرمپ گیس اور تیل کے نئے ذخائر کی تلاش کا ارادہ بھی رکھتے ہیں جن کے لیے کی جانے والی ڈرلنگ اس علاقے کے ماحول پر بدترین اثرات مرتب کرتی ہے۔

ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ کلائمٹ چینج کے سدباب کے سلسلے میں تمام پروگراموں کے لیے اقوام متحدہ کی تمام امداد بند کر دی جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں