The news is by your side.

Advertisement

صنف آہن میں پری وش کے خط نے مداحوں کے دلوں کو چھو لیا

اے آر وائی ڈیجیٹل کے مشہور ڈرامہ سیریل ’صنف آہن‘ میں رمشا خان (پری وش) جمال کا والدین کو لکھا گیا خط مداحوں کو بھا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے تعاون سے نشر کیے گئے ڈرامہ سیریل صنف آہن کی گزشتہ دنوں 12ویں قسط نشر کی گئی جس میں پری وش جمال کا خط سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہا ہے اور ڈرامے کی لکھاری عمیرہ احمد نے اس خط کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔

ڈرامے میں ٹریننگ کے بعد فوج کی تربیت حاصل کرنے والی اداکاراؤں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے فون پر بات نہیں کرسکتیں لیکن وہ اپنی خیریت سے متعلق بتانے کے لیے انہیں خط لکھیں۔

جس کے بعد اداکارہ کبریٰ خان (مہ جبین مستان) دنانیر مبین، سجل علی، یمنیٰ زیدی، سری لنکا اداکارہ یہالی تاشیا اپنے گھر والوں کو خط لکھتی ہیں۔

پری وش جمال اپنے والدین کے نام لکھے گئے خط میں لکھتی ہیں کہ ’پوری قومی ترانے میں صرف ایک چیز کی گونج اور بازگشت تھی، ملک، ملک، ملک، قوم، سلطنت۔۔۔۔۔۔۔۔ابو اس میں کہیں بھی سندھ، بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر کہیں بھی یہ لفظ تھے ہی نہیں۔‘

اداکارہ مزید لکھتی ہیں کہ ’تو مجھے خیال آیا کہ ہماری لغت اور ذہنوں میں یہ قوم، مذہب، صوبہ، زبان کی تفریق اور تفاخر کس نے ڈال دیا؟ ہم سب کے درمیان اتنی لکیریں کس نے کھینچ دیں؟ جب جھنڈا، ترانہ اور قوم کا لیڈر یہ نہیں کرتا تو پھر یہ سب کون کرتا ہے؟

یہاں پی ایم اے میں بیٹھ کر بڑے سوال ذہن میں آتے ہیں اور ان کے جواب بھی ملتے ہیں، بچپن سے دل اور ذہن میں پھانسی نکل گئی ہیں ابو، اور اب جب جب یہاں وقت گزر رہا ہے تو اور بہت ساری پھانسیں نکل جائیں گی۔

پری وش لکھتی ہیں کہ تو ابو میں بلوچستان کی بیٹی نہیں رہی، میں آپ کی بیٹی ہوں میں پاکستان کی بیٹی ہوں اور یہاں پی ایم اے سے نکلنے کے بعد پوری قوم کو صرف ایک جذبے سے سرو کروں گی، پاکستانیت کے جذبے سے۔

انہوں نے لکھا کہ امی کو میرا سلام اور پیار دینا اور ان کو بتادیں کہ میں یہاں بھی بندوق چلاتی ہوں پر یہاں مجھے کوئی چپل نہیں مارتا۔

پروی وش نے صرف ایک ہی خط میں صنف آہن کا خلاصہ پیش کردیا، یاد رہے کہ صنف آہن کی 12 اقساط نشر کی جاچکی ہیں اور اس کی آئندہ قسط ہفتے کی رات 8 بجے اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر کی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں