The news is by your side.

Advertisement

کمپنیوں کی جنگ میں عوام کو نہ پیسا جائے، وزیر اعلیٰ کا جوابی خط

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کو جوابی خط لکھتے ہوئے کہا ہے کہ یوٹیلٹی کمپنیوں کے تنازعات کے باعث کراچی کےعوام کوسزانہ دی جائے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں شدید ترین لوڈ شیڈنگ کا معاملہ حکومتی اداروں کے مابین جنگ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعظم کے بعد وفاقی وزیر توانائی کے خط کے جواب میں بھی ایک خط لکھ دیا ہے۔

انھوں نے خط میں کہا کہ وفاقی حکومت اس معاملے سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتی، جب کے الیکٹرک کی نج کاری ہورہی تھی تو سندھ حکومت کو اس سے دوررکھا گیا۔ وفاقی حکومت نے معاہدے کی کاپی تک سندھ حکومت کونہیں دی۔

انھوں نے مصنوعی توانائی بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ کے الیکٹرک گنجائش کے مطابق بجلی پیدا نہیں کرتا تو یہ نیپرا کی نا اہلی اور اس کے خلاف چارج شیٹ ہے، اس ادارے کو ریگولیٹ کرنے کی ذمہ داری نیپرا ہی کی ہے۔ خیال رہے وفاقی وزیر توانائی نے اپنے خط میں وزیر اعلیٰ سندھ سے بجلی کے واجبات کی بروقت ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے خط میں زائد بلنگ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے لکھا کہ صارفین نے کے الیکٹرک کی طرف سے زائد بل وصول کرنے پر نیپرا کے پاس ہزاروں شکایات درج کی ہیں لیکن نیپرا نے اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہ کرکے مجرمانہ غفلت برتی ہے۔

کراچی میں بجلی بحران کی ذمہ دارکےالیکٹرک ہے‘ اویس احمد لغاری

انھوں نے لکھا کہ اداروں میں بلنگ اورگیس سپلائی کے تنازعے کو بجلی پیداوار سے منسلک نہ کیا جائے، کے الیکٹرک کو پوری گیس دی جائے تاکہ شہریوں کو لوڈ شیڈنگ سے نجات ملے، وہ صحیح کام نہ کرے تو ایکشن لیا جائے، انھوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ سوئی گیس کمپنی کے ساتھ اس کے تنازعے کے خاتمے کے لیے ٹی او آرز بھی بن چکے ہیں۔

مراد علی شاہ نے واٹر بورڈ کے معاملے کو بھی واضح کرتے ہوئے لکھا کہ وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کی نج کاری کے وقت واٹر بورڈ کے واجبات کی ادائیگی کی گارنٹی دی تھی لیکن واٹربورڈ کے وفاقی اداروں پر آج بھی ایک ارب آٹھ کروڑ روپے کے واجبات ہیں، جن کی ادائیگی بار بار کہنے پر بھی نہیں ہوئی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں