The news is by your side.

Advertisement

پاسپورٹ بلیک لسٹ کرنے کا قانون کالعدم قرار

لاہور : لاہور ہائی کورٹ نے پاسپورٹ بلیک لسٹ کرنےکاقانون کالعدم قرار دے دیا، فیصلے میں قرار دیا گیا کہ قانون میں کسی کے پاسپورٹ کو بلیک لسٹ کرنے کی شق ہی نہیں۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کاپاسپورٹ بلیک لسٹ کرنےکیخلاف درخواستوں پرفیصلہ سنادیا، جسٹس طارق سلیم شیخ نے شیخ شان الہی اور سید انور شاہ کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ پاسپورٹ ایکٹ میں بلیک لسٹ کرنے کی کوئی شق موجود نہیں، ڈپٹی اٹارنی جنرل کی جانب سے بلیک لسٹ قانون کو ختم کرنے پر اس کے سنگین اثرات کے خدشے پر عدالت نے قرار دیا کہ عدالتیں قانون کے مطابق کام کرتی ہیں، قانون میں اگر کوئی خامی ہو تو پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں نواز شریف، شہباز شریف کیسز پر اعلی عدلیہ کے احکامات کے حوالے بھی دییے گئے ہیں۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے قرار دیا کہ سفر کرنے کا حق عالمی طور پر بنیادی انسانی حق تسلیم کیا جا چکا ہے، کسی بھی شہری کا سفر کرنا اور بیرون ملک جانا بنیادی حقوق کے آرٹیکل کا جز ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کیسز کی وجہ سے کسی کو ملک سے باہر جانے سے روکنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، ریاستی مشینری کو کوئی ایسا اختیار استعمال کرنے کا حق نہیں جو اسے قانون میں نہ دیا گیا ہو۔

عدالت نے قرار دیا کہ پاسپورٹ ایکٹ کی شق 8 کے تحت پاسپورٹ ضبط یا منسوخ کیا جا سکتا ہے اس میں بلیک لسٹ کرنے کے حوالے سے کوٸی ذکر نہیں لہذا رولز 51 کے تحت بلیک لسٹ کرنے کے قانون کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں