The news is by your side.

Advertisement

“پیٹرول بحران: بڑے عہدوں پر بیٹھنا اور ملک کو لوٹنا، ایسا نہیں ہونے دینگے”

لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی کو بغاوت کے لیول کا جرم قرار ‏دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں پٹرول بحران سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ‏ہوئی، سماعت کے موقع پر چیف جسٹس قاسم خان نے انتہائی اہم ریمارکس دئیے اور اوگرا کی ‏کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ میرے نزدیک اوگرا اپنی ذمہ داریاں نبھانےمیں ناکام ‏رہاہے، پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی کرکے منتھلیاں اوپر تک جاتی ہیں، آج تک اوگرا کے جتنے بھی ‏چیئرمین آئے سب اس میں شامل ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے اوگرا کے آج تک کے تمام چیئرمینوں کو طلب کیا اور ریمارکس ‏دئیے کہ عدالت کے نوٹس لینے پرآئل کمپنیوں کو تھوڑ اتھوڑا جرمانہ کردیا، کمپنیاں حکومت کی ‏کٹھ پتلی ہیں، یہ بغاوت کے لیول کا جرم ہے، اگر پٹرول نہ ہوتو ملک تباہ ہوجاتے ہیں، ساتھ ہی ‏جسٹس قاسم علی خان نے ڈی جی ایف آئی اے کو بھی اگلی سماعت پررپورٹ سمیت پیش ہونے کا ‏حکم دیا۔

کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ ‏سولہ تاریخ کو پٹرول کا جہازآیا،دو دن رکھ کےبیچا،دو ارب کا فائدہ ہوا، بڑےعہدوں پربیٹھنا ‏اورملک کولوٹنا، ایسا نہیں ہونےدینگے، قانون ملک کےغریب لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے، قانون ‏بڑے لوگوں کوتحفظ دینے کے لیے نہیں ہے، ملک کولوٹ کر کھوکھلا کرکےرکھ دیا ہے۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بھارت میں سوا ارب کی آبادی میں صرف دس آئل ‏کمپنیاں ہیں، یہاں36 کمپنیاں موجود ہیں،36 پائپ لائن میں تیارہیں، جس پر وکیل کمپنیز نے عدالت ‏کو بتایا کہ جتنی کمپنیاں ہونگیں اتنا کمپی ٹیشن ہوگااچھی چیزفراہم کی جائےگی، آئل کمپنیز ‏کےوکیل کی جانب سے دئیے گئے دلائل پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‏باقی ساری دنیاپاگل ہےصرف آپ ہی سمجھدارہیں، جہاں آپکے خلاف کارروائی ہوگی وہاں آپ کی ‏سن لیں گے۔

چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ ان کمپنیوں نے پاکستان کو تباہ کردیا تھا، کسی آئل کمپنی کےپاس ‏‏10سے15 دن سے زیادہ ذخیرہ نہیں ہوناچاہئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں