The news is by your side.

کون سے شہری پولیس میں بھرتی کے اہل نہیں؟ عدالت کا تحریری فیصلہ

لاہور : عدالت نے کرپشن اور فوجداری کیسز کے الزامات میں ملوث افراد کے پولیس میں بھرتی ہونے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے کرپشن، فوجداری کیسز کے الزامات کی بنا پر محکمہ پولیس میں تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے کیخلاف درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

جسٹس چوہدری محمد اقبال نے14 صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ رشوت اور فوجداری کیسز میں ملوث افراد پنجاب پولیس میں بھرتی نہیں ہوسکتے۔

لاہور ہائی کورٹ نے کرپشن اور فوجداری مقدمات میں ملوث ہونے کی بنیاد پر اسپیشل برانچ میں بھرتی نہ کرنے کا اقدام درست قرار دے دیا۔

عدالت نے پولیس کی جانب سے درخواست گزار کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب پولیس میں بھرتی کے لیے امیدوار کا کردار بے داغ ہونا ضروری ہے۔

تحریری فیصلے کے مطابق پولیس فورس پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کیلئے اہلکاروں کا دیانتدار ہونا ضروری ہے، محکمے میں کنٹریکٹ پر بھرتی کے دوران درخواست گزار پر متعدد الزامات لگے،۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار پر بچے کو جنسی ہراساں کرنے اور ویڈیو بنانے کا مقدمہ بھی درج ہوا اور درخواست گزار کو مقدمے سے صلح کی بنیاد پر بری کردیا گیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے مطابق صلح کی بنیاد پر بری ہونے کو قابل تحسین بریت نہیں کہا جاسکتا، اس بات سے درخواست گزار کے کردار پرشکوک وشبہات جنم لیتے ہیں۔

پنجاب پبلک سروس کمیشن نے واضح لکھا ہے کہ امیدوار کے لیے قواعد و ضوابط پورے کرنا ضروری ہیں اور درخواست گزار محکمے کے ضابطہ اخلاق پر پورا نہیں اترتا۔

عدالت کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کی متعلقہ پوسٹ پر بھرتی کرنے کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ 2012میں کنٹریکٹ پر پنجاب پولیس کی اسپشل برانچ میں گریڈ5 میں بھرتی ہوا لیکن محکمے نے کرپشن، فوجداری کیسز کے الزامات کی بنا پر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں