The news is by your side.

Advertisement

پنجاب میں ٹیچرز کے لیے لائسنس ہونا ضروری

لاہور: پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس کا کہنا ہے کہ پنجاب میں پہلی بار اسکول ایجوکیشن پالیسی تشکیل دی ہے، ان کے مطابق اب اساتذہ کا بھی لائسنس ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی وزرا مراد راس اور فیاض الحسن چوہان نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو پر حملے کے وقت سیکیورٹی کی ذمہ داری رحمٰن ملک کی تھی، حیرت ہے رحمٰن ملک حملے کے فوراً بعد اسپتال کے بجائے زرداری ہاؤس پہنچے۔

فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ بلاول کو پاپا سے پوچھنا ہوگا رحمٰن ملک بینظیر بھٹو کو چھوڑ کر زرداری ہاؤس کیوں پہنچے۔ بینظیر بھٹو کی موت کے بعد زرداری نے فون کر کے کیوں کہا کہ پوسٹ مارٹم نہ کرنا۔ بلاول سے کہوں گا کہ آج اپنے پاپا سے یہ سوال پوچھیں۔

انہوں نے کہا کہ زرداری گروپ نے کھربوں روپے کی منی لانڈرنگ کرپشن کی ہے۔ پیپلز پارٹی کھربوں روپے جلسوں پر لگا رہی ہے۔ یہ پیسے سندھ میں لگا دیتے تو آپ کا کچھ بن جاتا۔

صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ کوشش ہے سب کو ایک چھتری کے نیچے لانا ہے، لوگ پوچھتے ہیں کرپٹ لوگوں کو پکڑا جاتا ہے تو کیا ایکشن ہوا۔ جج بلیک میلنگ ویڈیو کیس ابھی عدالت میں چل رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عدالت کے حکم پر کارروائی کی۔

پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس کا کہنا تھا کہ اسکولوں پر 21 کروڑ روپے خرچ آئے گا۔ جن علاقوں میں اسکول موجود نہیں موبائل اسکول بھجوا رہے ہیں۔ پنجاب میں پہلی بار اسکول ایجوکیشن پالیسی تشکیل دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیچر لائسنس کا معاملہ کابینہ نے منظور کرلیا ہے۔ وکیل کا لائسنس ہو سکتا ہے تو ٹیچر کا بھی ہونا چاہیئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں