site
stats
اے آر وائی خصوصی

کراچی کا ان دیکھا چہرہ ۔ نواحی علاقوں کی خواتین کی زندگی کیسی ہے؟

آپ کے خیال میں کراچی کی حد کہاں پر ختم ہوتی ہوگی؟ ٹول پلازہ؟ نیشنل ہائی وے؟ یا پھر حب ریور روڈ پر کراچی اختتام کو پہنچ جاتا ہوگا؟ اگر آپ واقعی ایسا سوچتے ہیں تو چلیں آج آپ کو کراچی کی ایک ایسی حد پر لے چلتے ہیں جس کا آج سے قبل آپ نے تصور بھی نہ کیا ہوگا۔

اس کے لیے آپ کو کراچی سے باہر نکلنے کے راستے پر سفر کرتے رہنا ہوگا، آپ کے سفر میں سنسان راستے ہوں گے، جہاں آپ کے علاوہ کوئی ذی روح نہ دکھائی دیتا ہوگا، بنجر زمین ہوگی، صحرا ہوگا، پتھریلے اور مٹی کے پہاڑ بھی دکھائی دیں گے، اور ہاں راستے میں آپ کو 1 فٹ لمبی چھپکلیاں بھی ملیں گی جنہیں مقامی زبان میں ’نوریڑو‘ کہا جاتا ہے۔

اس سفر میں آپ کو لگ بھگ 3 گھنٹے گزر جائیں گے، اور بالاآخر آپ جس جگہ پہنچیں گے، آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ وہ بھی کراچی کا ہی حصہ ہوگا۔

یہ ایک خاصا ’عجیب و غریب‘ سفر ثابت ہوسکتا ہے، اور اس وقت مزید عجیب ہوجائے گا جب آپ کو علم ہوگا کہ کراچی سے بہت دور آنے کے بعد ایسا صحرا، جہاں کوئی انجان شخص بھٹک جائے تو ساری زندگی بھٹکتا رہے، ایک جیسے پتھریلے راستوں سے کبھی صحیح سمت کا اندازہ نہ لگا سکے، ضلع ملیر کا حصہ ہے۔

مجھے یقین ہے کہ اس مقام کا علم کراچی کے میئر اور ملیر کے بلدیاتی و صوبائی اسمبلی کے نمائندوں کو بھی نہ ہوگا۔ جب کسی شے کا اکثریت کو علم نہ ہو، تو وہ گمنام ہوجاتی ہے، اور جدید دنیا سے اس کا تعلق کٹ جاتا ہے۔

کراچی سے کئی میل دور ۔ ایک اور کراچی

کراچی کے مرکز سے شروع ہونے والا یہ سفر جب اختتام پذیر ہوتا ہے تو اس سفر کو لگ بھگ 4 گھنٹے گزر چکے ہوتے ہیں۔ راستے کی ویرانی، بنجر پن، صحرا، اور صحرا میں جا بجا بکھرے ببول کے پودوں کو دیکھ کر یہ گمان گزرتا ہے کہ شاید ہم راستہ بھٹک چکے ہیں۔ یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر واقعی صحیح راستے پر جارہے ہیں، تو وہ کون لوگ ہیں جو دوسری طرف رہتے ہیں اور جنہیں شہر کی سہولیات تک پہنچنے میں ہی گھنٹوں گزر جاتے ہوں گے۔

یہ سفر کراچی (کے مرکز) سے تقریباً 170 کلومیٹر دور احسان رضا گوٹھ پر اختتام پذیر ہوتا ہے، اور یہاں سے دکھوں، غربت، بے بسی اور لاچاری کا نیا سفر شروع ہوتا ہے۔

گاؤں کا سربراہ احسان رضا برفت نامی شخص ہے جو پہلی بات کرتے ہی ایک نہایت مہذب، باشعور اور ذہین شخص معلوم ہوتا ہے۔

چار خانوں والا رومال آدھا کندھے اور آدھا سر پر ڈالے، اور سندھی ٹوپی پہنے یہ شخص نہ صرف اپنے بلکہ آس پاس موجود دیگر گاؤں کی فلاح کے لیے بھی نہایت متحرک اور سرگرم عمل ہے۔

جس وقت ہم وہاں پہنچے اس وقت گاؤں والے سخت دھوپ میں اپنی جھونپڑیوں سے باہر کھلی دھوپ میں راشن تقسیم کیے جانے کے انتظار میں بیٹھے تھے جو چند مخیر حضرات کی مہربانی سے انہیں میسر آیا تھا۔

راشن کے منتظر ان افراد میں بزرگ خواتین و مرد اور عورتیں بھی تھیں۔ کچھ لوگ ایک اور قریب موجود گاؤں سے بھی آئے تھے۔

تقسیم کے اس عمل کے دوران میں نے وہاں موجود جھونپڑیوں کا جائزہ لیا۔ ایک ہی دائرے میں پھیلے 20 سے 25 گھروں میں ایک ہی خاندان کے افراد آباد تھے۔

گاؤں کے سربراہ احسان رضا کے بقول اس گاؤں سمیت دیگر کئی گاؤں میں آبادی اسی طرح خاندانوں پر مشتمل تھی۔ کچھ جھونپڑیوں کے اندر نہایت ہی ضعیف خواتین موجود تھیں جو ناتوانی کے باعث راشن کی لائن میں نہیں بیٹھ سکتی تھیں۔

جھونپڑیوں کا جائزہ لینے کے دوران ایک خاتون میرے ہمراہ ہوگئیں۔ مجھے پتہ چلا تھا کہ وہاں موجود افراد شہر سے کم تعلق کے باعث نہایت ٹوٹی پھوٹی اردو میں گفتگو کرتے ہیں، لیکن یہ خاتون نہایت صاف اردو میں بات کر رہی تھیں۔

گفتگو شروع ہوئی تو میں نے وہاں پر بنیادی ضرورتوں، اسپتال اور اسکول وغیرہ کے بارے میں دریافت کیا، لیکن بانو نامی اس خاتون کے پاس ہر سوال کا ایک ہی جواب تھا، نفی میں ہلتا ہوا سر اور ’کچھ بھی نہیں‘۔

پوچھنے پر پتہ چلا کہ گاؤں والے چھوٹی موٹی بیماریوں کا تو خود ہی علاج کر لیتے تھے، البتہ کسی شدید تکلیف دہ صورتحال یا خواتین کی زچگی کے موقع پر ’شہر‘ سے مدد بلوائی جاتی تھی۔

معروف مصنف مشتاق احمد یوسفی اپنی ایک کتاب میں رقم طراز ہیں، ’پرانے زمانوں میں ڈاکٹر کو اسی وقت بلوایا جاتا تھا جب یقین ہوجاتا تھا کہ اب مریض کے انتقال کو بس تھوڑی ہی دیر باقی ہے‘۔

یہاں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال تھی جب مریض درد سے تڑپتا موت کی سرحد پر پہنچ جاتا، تو اپنی یا شاید مریض کی تسلی کے لیے شہر سے ڈاکٹر یا ایمبولینس بلوائی جاتی لیکن عموماً مریض مسیحا کی مسیحائی سے پہلے ہی موت سے شکست کھا جاتا تھا۔

شہر سے مدد بلوانے کے لیے پی ٹی سی ایل کا ایک عدد ٹیلی فون وہاں نصب تھا۔ اس ٹیلی فون سے شہر میں ایمبولینس کو کال کی جاتی جس کے بعد شہر سے ایمبولینس روانہ ہوتی اور صحرا کے پتھریلے راستوں پر ڈولتی، ہچکولے کھاتی، یہاں تک پہنچتی، اس وقت تک اگر مریض میں جان ہوتی تو اسے لے کر دوبارہ اسی جھٹکے کھاتی 3 گھنٹے کے طویل سفر پر روانہ ہوجاتی۔

اگر کوئی مریض سفر کی طوالت اور اذیت ناک جھٹکوں کے باوجود شہر کے اسپتال پہنچنے تک زندہ رہتا (اور ایسا بہت کم ہوتا تھا) تو سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر تک پہنچنے کا انتظار اسے ماردیتا، گویا ہر صورت موت ہی اسے نصیب تھی۔

یہ اذیت ناک کرب اور انتظار کی تکلیف مختلف مریضوں کے علاوہ ہر اس زچہ خاتون کو بھی اٹھانی پڑتی جن کا دائی کے ہاتھوں کیس بگڑ جاتا اور وہ یا ان کا بچہ موت کے دہانے پر پہنچ جاتا۔ موت اور درد سے لڑتی ایک عورت کا ان جان لیوا راستوں پر سفر اور ایسے وقت میں جب ایک لمحہ بھی ایک عمر بن کر گزرتا محسوس ہوتا ہے، 3 سے 4 گھنٹوں کے طویل عبرت ناک انتظار کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کر دینے کے لیے کافی ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت میں حاملہ خواتین کے لیے خصوصی بائیک ایمبولینس

لیکن ان عورتوں میں سے بمشکل ہی کوئی ڈاکٹر تک پہنچ پاتی ہے۔ عام حالت میں بھی انسانی برداشت کی حد سے گزرنے والا تخلیق کا درد جب اپنے عروج پر پہنچتا ہوگا تو ایسے میں اس تکلیف کو سہنے سے زیادہ آسان ملک الموت کا آنا ہی ہوتا ہوگا اور قدرت بھی یہ بات جانتی ہے لہٰذا ایسی عورتیں نصف راستے میں ہی دم توڑ کر ابدی نجات پالیتی ہیں۔

بانو کے بقول گاؤں میں عموماً گھروں میں ہی زچگی کا عمل انجام پاتا ہے۔ یہ ایک عام بات ہے اور جب گاؤں میں کوئی عورت حاملہ ہوتی ہے تو وہ اور اس کے گھر والے دعا مانگتے ہیں کہ شہر سے مدد بلوانے اور اسپتال جانے کی ضرورت نہ پیش آئے۔

وہ جانتے ہیں کہ شہر سے ایمبولینس آنے کے بعد جو اس ایمبولینس میں لیٹ کر ان راستوں کی طرف جاتا ہے، وہ شاذ ہی واپس آتا ہے۔ شہر کی طرف جانے والے یہ راستے ان کی لیے گویا موت کی وادی میں جانے کے راستے تھے۔

گاؤں کے بیچوں بیچ ’پبلک‘ باتھ روم

اس سے قبل میں نے جتنے بھی گاؤں دیہاتوں کے دورے کیے تھے وہاں کا ایک اہم مسئلہ بیت الخلا کی عدم موجودگی بھی ہوتا تھا، لیکن شاید وہ میرے لیے اہم تھا، وہاں رہنے والوں کے لیے نہیں، کیونکہ بظاہر یوں محسوس ہوتا تھا کہ گاؤں والوں کو بیت الخلا کی موجودگی یا عدم موجودگی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تھا۔

البتہ خواتین کے لیے باتھ روم کا استعمال ایک پریشان کن مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ جہاں باتھ روم نہیں ہوتے وہاں خواتین کو علیٰ الصبح اور شام ڈھلنے کے بعد کھیتوں میں جانا پڑتا تھا، یا جہاں ٹوٹے پھوٹے باتھ روم موجود ہوتے تھے، وہ شام ڈھلتے ہی سانپوں اور مختلف کیڑے مکوڑوں کی آماجگاہ بن جاتے تھے لہٰذا خواتین شام ہونے کے بعد واش رومز استعمال کرنے سے احتیاط ہی برتتی تھیں۔

احسان رضا گوٹھ میں البتہ مجھے چند باتھ روم ضرور دکھائی دیے۔ گاؤں میں مصروف عمل ایک فلاحی تنظیم کاریتاس کی معاونت سے بنائے گئے یہ باتھ روم تعداد میں 2 سے 3 تھے اور ہر باتھ روم چند گھروں کے زیر استعمال تھا۔

کچے گھروں سے دور صحرا کے وسط میں کھڑے یہ باتھ روم بہت عجیب دکھائی دیتے تھے لیکن گاؤں والوں کی زندگی کا اہم حصہ تھے۔ اس کی بدولت مرد و خواتین دونوں کو کھیتوں میں جانے کی زحمت سے چھٹکارہ حاصل تھا۔

خواتین اور بچے معاشی عمل کا حصہ؟

گاؤں میں اسکول کے بارے میں دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ وہاں کوئی اسکول یا استاد نہیں تھا جو بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتا۔

دراصل گاؤں کا سب سے بڑا مسئلہ پانی تھا۔ یہاں پر پانی کا ذریعہ اس علاقے میں ہونے والی بارشیں تھیں جو گزشتہ 2 سال سے نہیں ہوئی تھیں۔ تاہم یہ مسئلہ اب خاصی حد تک حل ہوچکا تھا۔

کاریتاس کی کوششوں کے سبب چند ایک ارکان صوبائی اسمبلیوں نے یہاں کا دورہ کیا تھا اور ان کی ذاتی دلچسپی کے سبب اب یہاں پانی کی موٹر نصب کردی گئی تھی جو زمین سے پانی نکال کر گاؤں والوں کی ضروریات کو پورا کر رہی تھی۔ کچھ ضرورت ہینڈ پمپس سے بھی پوری ہورہی تھی۔

اس اہم مسئلے کے حل کے بعد اب گاؤں والوں کی زندگی خاصی مطمئن گزر رہی تھی اور انہیں اپنی زندگی میں کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔

میں نے خواتین سے دریافت کیا کہ کیا وہ معاشی عمل کا حصہ ہیں اور کوئی کام کرتی ہیں؟ تو جواب نفی میں ملا۔

بانو نے بتایا کہ خواتین سندھ کی روایتی کڑھائی سے آراستہ ملبوسات اور رلیاں (جو مختلف رنگین ٹکڑوں کو جوڑ کر بستر پر بچھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے) بناتی تو ہیں مگر وہ خود ہی استعمال کرتی ہیں، انہیں شہر لے جا کر فروخت نہیں کیا جاتا۔

گفتگو کے دوران ایک اور خاتون نے شامل ہوتے ہوئے کہا، ‘ کڑھائی کرنا مشکل کام ہے یہ ہاتھ سے نہیں ہوتا۔ اگر کوئی ہمیں سلائی مشینیں لا دیں تو ہم انہیں بنا کر شہر میں بیچیں گے’۔

خاتون کے مطابق بہت پہلے گاؤں کے کسی ایک گھر میں سلائی مشین ہوا کرتی تھی جس پر تمام خواتین سلائی سیکھا کرتیں اور اپنے لیے خوبصورت ملبوسات تیار کرتیں، تاہم اب وہ واحد سلائی مشین خستہ حال اور ناکارہ ہوچکی ہے۔

پہاڑ کے اوپر ایک اور دنیا

احسان رضا گوٹھ کے بالکل سامنے ایک پہاڑ نظر آرہا تھا جس کے دوسری طرف صوبہ بلوچستان کا مول نامی قصبہ واقع ہے۔

ہمیں پتہ چلا کہ اس پہاڑ کے اوپر بھی چند گاؤں واقع ہیں۔ ’اوپر والے ضروریات زندگی کے لیے نیچے کیسے آتے ہیں؟‘ یہ پہلا سوال تھا جو ہمارے ذہنوں میں آیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ پہاڑ کے اوپر ایک کچا راستہ تعمیر کیا گیا ہے جس کے بعد گاؤں والوں کی زندگی اب نسبتاً آسان ہوگئی ہے۔

پہاڑ کے اوپر کو لے جانے والے راستے کی تعمیر بھی بذات خود ایک کہانی ہے۔ اس کچے راستے کی تعمیر سے قبل گاؤں والے پیدل پہاڑ سے اترا کرتے تھے۔ احسان رضا گوٹھ میں چند ایک افراد کے پاس موٹر سائیکل تھی جو اس موقع پر کام آتی۔

اس پہاڑ کے اوپر رہنے والے بیماروں اور میتوں کی تدفین کے لیے پلنگ اور رسی کا استعمال کرتے تھے اور مریضوں اور مردہ شخص کو پلنگ سے باندھ کر نیچے لایا جاتا جس کے بعد اسے اسپتال یا قبرستان لے جایا جاتا۔

پہاڑ سے دکھائی دینے والے مناظر

مذکورہ پہاڑ سے نیچے اتر کر 1 سے 2 گھنٹے میں احسان رضا گوٹھ تک پہنچنا، اس کے بعد مزید 3 گھنٹوں کا سفر کر کے شہر تک پہنچنا، درمیان میں راستے کی اونچ نیچ، پتھر، صحرا یہ سب جاں بہ لب مریض کے دنیا سے منہ موڑنے کے لیے کافی تھے۔ ہاں جو مرجاتے وہ نسبتاً سکون میں تھے کیونکہ ان کے لیے گاؤں والوں نے ذرا دور ایک قبرستان بنا رکھا تھا۔

تاہم یہ مشکل کچھ آسان اس طرح ہوئی کہ کاریتاس کی وساطت سے سابق رکن سندھ اسمبلی فرزانہ بلوچ نے یہاں کا دورہ کیا اور ان کے احکامات کے بعد پہاڑ سے نیچے اترنے کے لیے ایک کچا راستہ تعمیر ہوسکا۔

اس ساری داستان کو جاننے کے بعد اب ہمارا سفر پہاڑ کے اوپر کی طرف تھا۔ ہم گاڑی میں سوار ہچکولے کھاتے، رکتے، چلتے اور صحرا کے حیرت انگیز نظارے دیکھتے اوپر پہنچے۔ یہ راستہ 5 سے 6 کلومیٹر کی طوالت پر مشتمل ہے۔

پہاڑ کے اوپر سب سے پہلا گاؤں مٹھو (سندھی زبان میں میٹھا) گوٹھ تھا۔ مٹھو گوٹھ سمیت یہاں کوئی 5 سے 6 گاؤں موجود تھے جن میں مجموعی طور پر 200 کے قریب گھر آباد تھے۔

ہر گاؤں کی طرح یہاں بھی دور تک غربت، بیماری اور مسائل کا راج تھا۔ جگہ جگہ زمین پر مختلف بانس گاڑ کر ان سے گائے بیلوں اور بکریوں کو باندھا جاتا تھا۔ یہ مویشی گاؤں والوں کے لیے صرف اتنے مددگار تھے کہ انہیں بیچ کر کچھ عرصے کا راشن خریدا جاسکتا۔

مٹھو گوٹھ میں 2 کمروں پر مشتمل اسکول کی ایک عمارت بھی کھڑی تھی جو اس وقت کھنڈر کا منظر پیش کر رہی تھی۔ کیونکہ اول تو حکومت کا مقرر کردہ کوئی استاد یہاں آتا ہی نہیں تھا، اور اگر کوئی آ بھی جاتا تو گاؤں کے مردوں کو اس سے کوئی نہ کوئی شکایت پیدا ہوجاتی یوں وہ چند دن بعد وہاں سے جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھتا۔

گاؤں کا اسکول

محرومیوں کا شکار لیکن مطمئن لوگ

گاؤں کی خواتین نے مجھے اپنے ہاتھ سے کڑھی ہوئی چادریں، ملبوسات اور رلیاں وغیرہ دکھائیں۔

میں نے دریافت کیا کہ وہ ان اشیا کو شہر میں فروخت کر کے اپنی معاشی حالت میں بہتری کیوں نہیں لاتیں؟ آخر راشن لانے اور جانوروں کو فروخت کرنے کے لیے بھی تو ان کے مرد شہر کی طرف جاتے ہی ہیں، تب ان خواتین کا جواب ٹالنے والا سا تھا۔ صائمہ نامی ایک خاتون نے کہا، ’ہمارے مرد نہیں لے کر جاتے‘۔

صائمہ کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ خود تو گردوں کے مرض کا شکار ہے اور بیمار رہتی ہے، لہٰذا وہ زیادہ کام نہیں کر سکتی البتہ جو دیگر عورتیں ہیں وہ بس اپنے لیے ہی سلائی کڑھائی کرتی ہیں۔ ‘ہم بس نہیں بیچتے۔ ہم بنا کر خود ہی استعمال کرتے ہیں’۔

اس کے پاس اس بات کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی، شاید وہ سب اپنی غربت اور مسائل سے گھری زندگی میں مگن اور خوش تھے۔

واپسی میں پھر وہی کئی گھنٹوں کا سفر تھا، صحرا تھا، ویرانی تھی، اور اونچے نیچے راستے تھے۔ ان سب کو پاٹ کر جب ہم ’شہر‘ میں داخل ہوئے تھے تو یوں محسوس ہوا جیسے یہ شہر کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک کا سفر نہیں تھا، بلکہ دو زمانوں کا سفر تھا۔

ایک جدید دور کا تمام سہولیات سے آراستہ زمانہ، اور دوسرا کئی صدیوں قبل کا جب سائنس عام افراد کی پہنچ سے بہت دور تھی اور ہر طرف دکھ تھے، مسائل تھے، جہالت تھی، تکلیفیں تھیں، اور شام ڈھلتے ہی گھپ اندھیرا ہوا کرتا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top