The news is by your side.

Advertisement

اندلس کے ابنِ زُہر کا تذکرہ جنھیں طبیبِ کامل کہا جاتا ہے

لگ بھگ ہزار سال پہلے جہاں برِاعظم یورپ نے مسلمانوں کی دلیری، شجاعت کی داستانیں سنی تھیں، وہیں اندلس میں خلافت و اسلامی امارت کا پرچم بلند ہوتے بھی دیکھا تھا جس نے علم و فنون کی سرپرستی کی اور اس کے زیرِ سایہ صنعت و حرفت کے میدان میں مثالی ترقّی اور دریافت و ایجاد کے میدان میں عظیم اور ناقابلِ فراموش کارنامے انجام دیے گئے۔

اسی دور کا اندلس جہاں ہمیں شان و شوکت، رعب و دبدبے اور سلطنت کے عروج و زوال کی ہوش رُبا داستان سناتا ہے، وہاں اس زمانے کے مسلمان سائنس دانوں کے کار ہائے نمایاں بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے جس سے بعد میں یورپ کی دیگر اقوام نے بھرپور استفادہ کیا۔

ابنِ زُہر (زُھر) اندلس کے اُس خاندان کے فرد تھے جس نے مختلف ادوار میں علم و ادب، مذہب اور طب میں نام و مرتبہ پایا۔

ابنِ زُہر جیّد و مستند عالم اور حاذق طبیب تھے۔ مسلم اور غیر مسلم یورپی مؤرخین نے انھیں فنِ طبابت کے علاوہ الہٰییات، فقہ کا زبردست عالم اور ادبیات کا ماہر بتایا ہے۔ تاہم ان کی دنیا بھر میں وجہِ شہرت علمِ طب ہے جس کے لیے ان کے بزرگ اور خاندان کے دیگر لوگ بھی مشہور تھے۔

زُہر کا مکمل خاندانی نام “ابنِ زُہر بن ابو مروان عبد الملک بن ابی الاعلیٰ زُہر تھا۔ ان کی ولادت اشبیلیہ میں 1091ء میں ہوئی۔ ابنِ زُہر کو مستشرقین Avenzoar کے نام سے جانتے ہیں۔

ابنِ زُہر نے تجربات و تحقیق سے متعدد امراض کا علاج دریافت کیا اور کئی کتابیں تصنیف کیں جن میں امراض اور ادویّہ کی تفصیل محفوظ ہے۔ سب سے پہلے انھوں نے سانس کی نالی کی جراحی کی اور غذائی عمل سے متعلق تجربات کیے۔ انھوں نے حلق اور غذا کی نالی سے مصنوعی غذائیت کا تجربہ کیا۔ انھوں نے اپنے ان تجربات اور دریافتوں کے سبب بہت عزّت اور شہرت پائی۔

ابنِ زُہر نے نظام انہضام و امراضِ معدہ کے علاوہ جسم کے مختلف اعضا کی کیفیت و حالت اور طبّی شکایات و پیچیدگیوں پر تحقیق کرتے ہوئے اپنے مشاہدات اور تجربات کو بیان کیا ہے۔ امراض و علاج سے متعلق اس مسلمان سائنس داں اور ماہر طبیب کی دریافتوں اور انکشافات کے بارے میں تفصیل ان کی کتب سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

ان کی مشہور طبّی تصانیف کتاب التیسیر فی المداوات و التدبیر، کتاب الاقتصاد فی الاصلاح النّفس والاجساد ہیں۔ ان کتب کا ترجمہ دُنیا کی متعدد زبانوں میں ہو چکا ہے۔ ابنِ زُہر کا سنِ وفات 1161ء بتایا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں